محسن نقوی کا ایف آئی اے دورہ، حوالہ ہنڈی و جعلی ادویات مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
اویس کیانی: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایف آئی اے کراچی زون کا دورہ کیا جہاں ان کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا۔ وزیر داخلہ نے حوالہ ہنڈی مافیا، جعلی ادویات، نان کسٹم مصنوعات اور بھکاری ایجنٹ مافیا کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا دو ٹوک حکم دے دیا۔
محسن نقوی نے ہدایت کی کہ حوالہ ہنڈی میں ملوث بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالا جائےاورکسی کا دباؤ قبول کیے بغیر قانون نافذ کیا جائے۔بھکاریوں کو بیرون ملک بھجوانے والے ایجنٹ پاکستان کا امیج خراب کر رہے ہیں ان کے خلاف مکمل کریک ڈاؤن کیا جائے۔ڈی پورٹ ہو کر واپس آنے والے بھکاریوں کی فوری گرفتاری یقینی بنائی جائے۔
سکولوں کی انسپکشن کرنے والے افسران کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ
اُن کا مزید کہنا تھا کہ جعلی ادویات کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اور نان کسٹم پیڈ اشیاء کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ساتھ ہی 5 ہزار ڈالر سے زائد لے جانے والے مسافروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت ایکشن لیا جائے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ملک کی ساکھ اور معیشت کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت یا رواداری نہیں برتی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔