کراچی صحتمند ہوگا تو پاکستان صحتمند ہوگا‘ جہاں تک ممکن ہوسکا مسائل حل کرینگے ‘ وفاقی وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کراچی صحت مند ہوگا تو پاکستان صحت مند ہوگا، جہاں تک ممکن ہوسکا شہر کے مسائل حل کریں گے، سیف سٹی کراچی کی تکمیل سے جرائم میں کمی آئے گی،جلد ہی پاکستان کی پاسپورٹ رینکنگ ایک بڑی چھلانگ مارے گی، ڈالر کی بلیک مارکیٹ میں خرید و فروخت کو ختم کریں گے،معیشت کی بہتری ہمارا اہم ہدف ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاکہ ہم نے پاسپورٹ کی رینکنگ پر بہت کام کیا ہے، تھوڑی سی محنت سے پاسپورٹ رینکنگ بہتر ہوئی، ان شااللہ اگلے 2 سال میں پاسپورٹ کی رینکنگ بہت بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی صحت مند ہوگا توپاکستان صحت مندہوگا، سیف سٹی کراچی کی تکمیل سے جرائم میں بہت کمی آئیگی۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ ایک وقت تھا کہ یہاں سے ڈالر بھی اسمگل ہوتے تھے اور پاکستانی سرحدات کا کوئی والی وارث نہیں تھا، ہم نے اسمگلنگ پر بہت حد تک قابو پایا ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اسمگلنگ ختم کردی ہے، لیکن اس میں بہت کمی آئی ہے، اسمگلنگ معیشت کے لیے دیمک ہے، اس کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ جرائم کو روکنا سیف سٹی سے ہی ممکن ہے، یہ بنیادی ضرورت ہے، کراچی کا سیف سٹی مکمل ہوگیا تو جرائم بہت نیچے آئیں گے، ہم سے بھی جو کچھ ہوسکا کریں گے۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ کراچی پولیس جرائم کو نیچے لائی ہے جس پر انہیں کریڈٹ دینا چاہیے، انہوں نے کہا کہ کراچی اتنا بڑا شہر ہے کہ کئی شہروں کو ملالیں تو بھی کراچی ان سے بڑا ہوگا، شہر کے مسائل بھی اسی طرح بڑھتے ہیں، کسی نے آج 50، 100 سال پہلے سوچا نہیں تھا کہ یہ شہر اتنا بڑا ہوگا،لیکن اس کے باوجود کراچی اور سندھ پولیس کو جرائم میں کمی لانے کا کریڈٹ دینا ہوگا۔ محسن نقوی نے کہاکہ جب تک قوانین سخت نہیں ہوں گے تجاوزات کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، جرمانے اور سزائیں بڑھانی ہوں گی، تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، نتائج جلد نظر آئیں گے۔ قبل ازیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کوسٹ گارڈز کے زیراہتمام کراچی بندرگاہ پر 2 نئی بوٹس کی شمولیت کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ ڈی جی پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل جواد ریاض نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی بندرگاہ آمد پر استقبال کیا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے نئی بوٹس کا معائنہ کیااور نئی بوٹ پر سفر کیا۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے پاکستان کوسٹ گارڈز میں جدید بوٹس کی شمولیت کے اقدام کو سراہا، ڈی جی پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل جواد ریاض نے جدید بوٹس کے بارے بریفنگ دی۔
کراچی:وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پاکستان کوسٹ گارڈز فلیٹ میں دو نئی بوٹس شامل کرنے کی تقریب کا ربن کاٹ کر افتتاح کررہے ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ محسن نقوی پاکستان کوسٹ گارڈز داخلہ محسن نقوی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا نے کہاکہ کہ کراچی سیف سٹی
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔