پاکستان کی حکمت عملی میں اہم پیش رفت: حکومت نے 500 ارب کا قرضہ قبل از وقت ادا کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد : حکومت پاکستان نے 500 ارب روپے کا قرضہ میچورٹی سے 4 سال پہلے ادا کردیا ہے، قرض کی ادائیگی 2029 میں شیڈول تھی۔
اس حوالے سے ترجمان وزارت خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے 500 ارب روپے کا قرضہ میچورٹی سے 4 سال پہلے ادا کردیا، قرض 4سال بعد 2029 میں میچور ہونا تھا۔
ترجمان کے مطابق قرض کی جلد ادائیگی پاکستان کی قرض انتظام کی حکمت عملی میں اہم پیشرفت ہے، قرض کی ابتدائی ریٹائرمنٹ قرض لینے پرانحصار روک کر میکرو اکنامک بنیادیں مضبوط کرتی ہے۔،
خرم شہزاد نے کہا کہ قرض کی ابتدائی ریٹائرمنٹ ملک کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچاتی ہے، سال2025میں 1.
وزارت خزانہ کے ترجمان خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ قرض کی جلد واپسی معاشی اعتماد اور اصلاحات کا مضبوط اشارہ ہے، پاکستان کا جی ڈی پی کے لحاظ سے قرض75فیصدسے 69 فیصد تک کم ہوا۔
واضح رہے کہ گردشی قرضہ کم کرنے کیلئے حکومت نے کمرشل بینکوں سے 1270ارب روپے کا قرضہ لیا تھا، جس کی واپسی کا بوجھ بجلی صارفین پر ڈالا جائے گا۔
اس حوالے سے سلیم مانڈوی والا کی زیرِصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس میں بریفنگ دی گئی تھی جس میں بتایا گیا کہ بجلی بلوں میں اضافی ڈیٹ سروس سرچارج لگ کر آئے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔