ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل اسلام آباد نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے الیکٹرانک فراڈ، جعلسازی اور برانچ لیس بینکنگ ریٹیلرز سے دھوکہ دہی میں ملوث منظم گروہ کا سرغنہ گرفتار کرلیا۔

ترجمان ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت محمد طارق کے نام سے ہوئی، ملزم کے خلاف پیکا 2016 کے تحت متعدد مقدمات درج ہیں، ملزم دیگر ساتھیوں کی معاونت سے برانچ لیس بینکنگ ریٹیلرز کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ دہی میں ملوث پایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ویزا فراڈ ،انسانی اسمگلنگ میں ملوث 3 ملزمان گرفتار

بیان کے مطابق ملزم برانچ لیس ریٹیلرز کی دکانوں پر جا کر ان کا موبائل فون حاصل کرتا جس میں ریٹیلر سم (CBA اکاؤنٹ) موجود ہوتی تھی، ملزم مختلف حیلے بہانوں سے دکاندار کو مصروف کر کے اصل سم کو بلاک شدہ سم سے تبدیل کر دیتا تھا۔

ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزم CBA اکاؤنٹ سے موجودہ رقم دیگر ریٹیلر اکاؤنٹس میں منتقل کروا کر کیش حاصل کر لیتا تھا، ملزم نے شہری کے اکاؤنٹ سے 1 لاکھ 77 ہزار روپے سے زائد کی رقم منتقل کی۔

اس میں کہا گیا کہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران ملزم سے موبائل فون اور دیگر شواہد حاصل کر لیے گئے، ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مار کاروائیاں جاری ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں ملوث

پڑھیں:

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر  کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیس بک صارفین اب مفت ویریفائیڈ بلیو ٹک حاصل کر سکتے ہیں، میٹا کا نیا پروگرام متعارف
  • Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار