پاکستان صاف پانی کو بچانے میں ناکام، سالانہ ایک کروڑ 80 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ضائع ہونے لگا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آج پانی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے لیکن پاکستان صاف پانی کو بچانے میں ناکام ہے۔
ارسا کے مطابق پاکستان سالانہ 1 کروڑ 80 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ضائع کرتا ہے جبکہ واپڈا کے زیر انتظام پاکستان میں پانی سٹور کرنے کے چار بڑے منصوبے التوا کا شکار ہیں۔
منصوبوں میں دیا میر بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے بڑے پراجیکٹس شامل ہیں جو نہ صرف پانی کو سٹور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ بجلی پیدا کرنے اور آبپاشی کے لیے بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کے پچاس فیصد سے زائد شہری پینے کے صاف پانی جیسے حق سے بھی محروم ہیں، اس مرتبہ ورلڈ واٹر ڈے کا تھیم گلیشیئرز کو بچانا (سیو اوور گلیشیئرز) ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشیئرز جلدی پھگل رہے ہیں اور ان گلیشیئرز کے جلدی پگھلنے سے پانی کا سائیکل متاثر ہورہا ہے، دنیا میں 2 ارب لوگوں کا انحصار گلیشیئرز کے پانی پر ہی ہے جو اس کو پینے، توانائی کے پیدا کرنے اور انڈسٹریز کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ گلیشیئرز ضائع ہو رہے ہیں، سال 2023 میں گلئیشیئرز سے 600 گیگا ٹن پانی ضائع ہوا اور یہ پانی گزشتہ پچاس سالوں میں سب سے زیادہ تھا۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو کم کرکے گلیشیئرز کو بچانا ہو گا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔