شراب ‘غیر قانونی اسلحہ کیس ، گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری برقرار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)جوڈیشل مجسٹریٹ مبشرحسن چشتی کی عدالت میں زیر سماعت مبینہ شراب اور غیر قانونی اسلحہ کیس میں بیان ریکارڈ نہ ہونے پر وزیر اعلی خیبرپختون خواہ کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے سماعت ملتوی کردی گئی۔گذشتہ روز تھانہ بہارہ کہو میں درج مقدمہ کی سماعت کے دوران علی امین گنڈاپور عدالت پیش نہ ہوئے اور ان کیوکیل راجہ ظہورالحسن نے 3 بجے 342 کا بیان ریکارڈ کروانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ علی امین گنڈا پور کو 3 بجے بذریعہ ویڈیو لنک بیان ریکارڈ کروائیں گے،اگر ہم بیان ریکارڈ نہیں کرواتے تو عدالت بتا دے کونسے قانون کے تحت 342 کا حق ختم ہوگا؟،یہ اکبر بادشاہ کی عدالت نہیں ہم جو درخواست دیتے ہیں آپ ریجکٹ کر دیتے ہیں،اکبر بادشاہ خوش ہوتا تھا تو اشرفیاں دیتا تھا غصے پر گردن اتار دیتا تھا،جج مبشر حسن چشتی نے کہا کہ آپ نے شاید میرا آڈر نہیں پڑھا اس میں سب کچھ لکھا تھا، جس پر وکیل نے کہاکہ ہم 3 بجے بیان ریکارڈ کروا دیں گے اس عدالت میں یا دوسرے کورٹ روم میں، جج مبشر حسن چشتی نے کہاکہ ہم نے کہیں اور کیوں جانا ہماری اپنی ایل سی ڈی چلتی ہے،عدالتی حکم پر کورٹ روم میں موجود ایل سی ڈی چلا دی گئی،عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا، جس کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہونے پرانٹرنیٹ کنکشن کے مسائل کے باعث علی امین گنڈاپور کا 342 بیان قلمبند نہ ہوسکا، عدالت نے علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے،۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: علی امین
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔