اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)جوڈیشل مجسٹریٹ مبشرحسن چشتی کی عدالت میں زیر سماعت مبینہ شراب اور غیر قانونی اسلحہ کیس میں بیان ریکارڈ نہ ہونے پر وزیر اعلی خیبرپختون خواہ کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے سماعت ملتوی کردی گئی۔گذشتہ روز تھانہ بہارہ کہو میں درج مقدمہ کی سماعت کے دوران علی امین گنڈاپور عدالت پیش نہ ہوئے اور ان کیوکیل راجہ ظہورالحسن نے 3 بجے 342 کا بیان ریکارڈ کروانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ علی امین گنڈا پور کو 3 بجے بذریعہ ویڈیو لنک بیان ریکارڈ کروائیں گے،اگر ہم بیان ریکارڈ نہیں کرواتے تو عدالت بتا دے کونسے قانون کے تحت 342 کا حق ختم ہوگا؟،یہ اکبر بادشاہ کی عدالت نہیں ہم جو درخواست دیتے ہیں آپ ریجکٹ کر دیتے ہیں،اکبر بادشاہ خوش ہوتا تھا تو اشرفیاں دیتا تھا غصے پر گردن اتار دیتا تھا،جج مبشر حسن چشتی نے کہا کہ آپ نے شاید میرا آڈر نہیں پڑھا اس میں سب کچھ لکھا تھا، جس پر وکیل نے کہاکہ ہم 3 بجے بیان ریکارڈ کروا دیں گے اس عدالت میں یا دوسرے کورٹ روم میں، جج مبشر حسن چشتی نے کہاکہ ہم نے کہیں اور کیوں جانا ہماری اپنی ایل سی ڈی چلتی ہے،عدالتی حکم پر کورٹ روم میں موجود ایل سی ڈی چلا دی گئی،عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا، جس کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہونے پرانٹرنیٹ کنکشن کے مسائل کے باعث علی امین گنڈاپور کا 342 بیان قلمبند نہ ہوسکا، عدالت نے علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے،۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: علی امین

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان