کشمیری حریت رہنما نے سوال کیا کہ کیا ایسی تنظیم جسکی بنیاد ایسے اصولوں پر رکھی گئی ہے، جو اتحاد، امن اور اصلاح کیلئے کھڑی ہے، امن و امان کیلئے خطرہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ میرواعظ عمر فاروق نے جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی (اے اے سی) پر پابندی کے حکومتی فیصلے کی شدید مذمت کی اور اسے "سخت اور غیر منصفانہ" قرار دیا۔ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں دینی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے پابندی کو فوری طور پر ہٹانے کی پرزور اپیل کی اور امن، مکالمے اور سماجی اصلاحات کے لئے عوامی ایکشن کمیٹی کے عزم پر زور دیا۔ میرواعظ نے کہا کہ پابندی کے حکم میں عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف لگائے گئے الزامات نہ صرف عجیب ہیں بلکہ ستم ظریفی بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جنہوں نے مسلسل صبر کا مظاہرہ کیا اور مشکل ترین وقتوں میں بھی امن کی وکالت کی، اب ان پر امن و امان میں خلل ڈالنے اور بدامنی پھیلانے کا الزام لگایا جا رہا ہے، یہ الزامات پارٹی کی تاریخ اور روایت کے خلاف ہیں۔

میرواعظ عمر فاروق نے سوال کیا کہ کیا ایسی تنظیم جس کی بنیاد ایسے اصولوں پر رکھی گئی ہے، جو اتحاد، امن اور اصلاح کے لئے کھڑی ہے، امن و امان کے لئے خطرہ ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے اس بات کا اعادہ کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے مسلسل بات چیت اور پُرامن حل کی وکالت کی ہے، نئی دہلی میں متواتر حکومتوں کے ساتھ بات چیت کی ہے، بشمول اٹل بہاری واجپائی، ایل کے اڈوانی اور منموہن سنگھ کے دور میں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ المناک نقصانات، بشمول عبدالغنی لون اور اس کے چچا مولوی مشتاق کے قتل کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی پُرامن مذاکرات کی وکالت کے لئے پُرعزم ہے۔ میرواعظ نے ایسے عظیم اصولوں کو برقرار رکھنے والی تنظیم پر پابندی لگانے کے پیچھے کی نیت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسی تنظیم جس کی بنیاد ایسے اصولوں پر رکھی گئی ہے جو اتحاد، امن اور اصلاح کے لئے کھڑی ہے، امن و امان کے لئے خطرہ ہے۔

میرواعظ عمر فاروق نے سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور افراد بشمول کشمیری پنڈت اور سکھ برادریوں کی جانب سے پابندی کی حمایت اور مذمت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا "میں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جو بحران کے اس وقت ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے اور سچائی اور انصاف کے حصول میں اے اے سی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اے اے سی کے کارکنوں اور حامیوں کے نام ایک پیغام میں میرواعظ نے ان پر زور دیا کہ وہ پارٹی کے اصولوں کے ساتھ اپنی وابستگی پر قائم رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یقیناً یہ ہم سب کے لئے مشکل وقت ہے لیکن اللہ کی رحمت سے یہ بھی گزر جائے گا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر میرواعظ عمر فاروق نے اے سی سی پر پابندی کی فوری منسوخی کے لئے اپنی درخواست کا اعادہ کیا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تنظیم کا مشن ہمیشہ امن، مکالمے اور لوگوں کی خدمت میں جڑا ہوا ہے اور رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میرواعظ عمر فاروق نے عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی انہوں نے کیا کہ نے کہا کے لئے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے