34.5 ارب کی ریکوری ایک اچھی شروعات ہے لیکن ابھی ہمارا سفر شروع ہوا ہے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
سٹی 42 : وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب سے واپسی کے فوری بعد ایف بی آر کی کارکردگی پر اجلاس ہوا، جس میں 34.5 ارب روپے کی ریکوری پر متعلقہ وزراء و افسران کی پزیرائی کی گئی، ساتھ ہی مستقل نظام کی تشکیل کیلئے لائحہ عمل طلب کیا گیا۔
اجلاس میں وزیرِ اعظم کو ٹیکس کے حوالے سے عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے حوالے سے بریفنگ اور حکومتی ٹیم کے ان مقدمات کی ریکوری کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی.
بلوچستان میں زلزلے کے جھٹکے
اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر نے وزیرِ اعظم کو ایف بی آر کے ڈائریکٹریٹ آف لاء کی اصلاحات، ٹیکس جانچ کیلئے ڈیجیٹل ایلگوریدھم، ٹیکس افسران کی کارکردگی کی جانچ کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر ایف بی آر کی جاری اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دی.
وزیرِ اعظم کی چیئرمین ایف بی کی جانب سے اقدامات کی پذیرائی کرتے ہوئے مستقل بنیادوں پر ایک مربوط نظام کے حوالے سے لائحہ عمل تشکیل دے کر پیش کرنے کی ہدایت کی.
پسوڑی کو ناپسند کرنے والے ہم تنہا نہیں، سنگر کی ماں ہمارے ساتھ ہے
وزیرِ اعظم نے وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، مشیر وزیرِ اعظم ڈاکٹر سید توقیر شاہ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوصال، سیکریٹری اطلاعات عنبرین جان، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال، ڈائیریکٹر جنرل انٹیلیجینس بیورو فواد اسداللہ خان، ڈائیریکٹر جنرل ایف آئی اے جان محمد اور متعلقہ تمام افسران کی اس تاریخی ریکوری کیلئے اقدامات کی خصوصی تعریف کی، کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم آپکی قومی خزانے کو 34.5 ارب روپے کا فائدہ پہنچانے پر مشکور ہے، فیصلے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر ریکوری قابل ستائش اقدام ہے.
لاہور میں 279 ٹریفک حادثات، 340 افراد زخمی
شہباز شریف نے کہا کہ ایسے بہترین نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ محنت و لگن سچی ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے، یہ تاریخی کام آپ جیسی محنتی ٹیم کے ساتھ ہی ممکن تھا. انہوں نے کہا کہ 34.5 ارب کی ریکوری ایک اچھی شروعات ہے لیکن ابھی ہمارا سفر شروع ہوا ہے، ہمیں مستقل بنیادوں پر ایک پائیدار نظام تشکیل دینا ہے، دہائیوں کی خرابیوں کو ہمیں مل کر ٹھیک کرنا ہے.
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ایف بی آر کی ریکوریوں کے حوالے سے مستقل بنیادوں پر مربوط قانونی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے. ایف بی آر کے حوالے سے اصلاحات و ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے بھی ایک لائحہ عمل تشکیل دے کر پیش کیا جائے. ایف بی آر کی افرادی قوت کی بہتری کیلئے ایک پلان تشکیل دیا جائے. شہباز شریف نے کہا کہ سو فیصد ڈیجیٹائیزیشن، تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن اور مسلسل نگرانی سے ہی نظام میں بہتری آئے گی.
پنجاب خیبرپختونخوا بارڈر پر خوارجی دہشت گردوں کا ساتواں حملہ ناکام
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ایسے افسران و اہلکار جو کسی بھی قسم کی خردبرد میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف بھرپور کاروائی عمل میں لائی جائے. انہوں نے کہا کہ اچھی کارکردگی والے افسران و اہلکاروں کی ستائش بھی یقینی بنائی جائے، اگر ہمیں پاکستان کی تقدیر کو بدلنا ہے تو نظام میں مستقل بنیادوں پر تبدیلی نا گزیر ہے. انہوں نے کہا کہ عوام کی ایک ایک پائی کی حفاظت کیلئے جس قدر ہوسکا، کوشش کریں گے.
پنجاب؛ سرکاری گندم کا نرخ 2900 روپے فی من مقرر
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، مشیرِ وزیرِ اعظم سید توقیر شاہ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوصال، سیکیرٹری اطلاعات عنبرین جان، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور ڈائیریکٹر جنرل انٹیلیجینس بیورو فواد اسداللہ خان شریک تھے.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مستقل بنیادوں پر چیئرمین ایف بی ایف بی آر کی کے حوالے سے کی ریکوری نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔