نادرا کی ’پاک آئی ڈی‘ موبائل ایپ کا نیا ورژن متعارف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, March 2025 GMT
کلیم اختر:نادرا کی جانب سے شہریوں کو مزید سہولیات دینے بارےبڑا اقدام، نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ کا نیا ورژن متعارف کروا دیا گیا۔
ورژن 3.8.1 میں شناختی دستاویزات کی تیاری کیلئے نئی خصوصیات فراہم کرے گا، فنگر پرنٹ نہ آنے کی صورت میں تصدیق کا نیا متبادل طریقہ فراہم کیا جائےگا۔
شہری چہرے کی مدد سے اپنا تصدیق کا پراسس مکمل کر سکیں گے، شہری ب فارم موجود ہونے کی صورت میں شناختی کارڈ یا نائیکوپ بنانے کی سہولت سے مستفیدہوسکتے۔
ایپلی کیشن کے نئے ورژن میں شناختی کارڈ میں ترامیم کے طریقہ کار کو مزید آسان کر دیا گیا، ڈی میٹریلائزڈ ڈیجیٹل شناختی کارڈ کے فیچر کو بھی پاک آئی ڈی موبائل ایپ میں ضم کر دیا گیا۔
نئے فیچر سے شہریوں اپنے شناختی کارڈز کو اپنے سمارٹ فونز میں محفوظ کر سکتے ہیں۔
بلوچستان میں زلزلے کے جھٹکے
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔