مریم نواز کی ہدایت پر محکمۂ وائلڈ لائف کا آپریشن، 8 کونجیں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر محکمہ جنگلی حیات نے کامبنگ آپریشن کر کے 8 کونجیں بر آمد کر لیں۔
محکمۂ وائلڈ لائف کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پرمحکمۂ وائلڈ لائف نے دریائے سندھ سے ملحق دریا خان بھکر میں کومبنگ آپریشن کیا۔
محکمۂ وائلڈ لائف پنجاب کی ٹیم کو دیکھتے ہی شکاری اپنا سامان چھوڑ کرفرار ہو گئے۔
محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بارکھان نے ایک کارروائی میں دو گاڑیوں سے غیرقانونی شکار کی گئی 32 کونجیں برآمدکر لی تھیں۔
ترجمان نے بتایا ہے کہ غیر قانونی طور پر کونج کے شکار کرنے پر کارروائی عمل میں لائی گئی ہے، وائلڈ لائف ایکٹ کے مطابق گونج ایک تحفظ شدہ جنگلی حیات ہے۔
چھاپہ مار ٹیم نے شکار کے لیے بنائے گئے ٹھکانے کو آگ لگا دی اور شکار کا مکمل سامان ضبط کر لیا۔
کارروائی کے دوران محکمے نے 8 کونجیں برآمد کیں، ان کونجوں کو سائبیریا ہجرت کرنے والی دیگر گونجوں کے شکار میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
اس کارروائی کے بعد 3 ملزمان کے خلاف مقدمے کا اندراج کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وائلڈ لائف
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔