ڈیجیٹل پاکستان کا سفر 2 سال سے جمود کا شکار ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
کراچی:
پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور آئی ٹی کے شعبے میں افرادی قوت کی بہتری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے تاہم اس مقصد کے لیے بنائے گئے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ادارے یونیورسل سروس فنڈ اور اگنائٹ کی کارکردگی پر خود ٹیلی کام انڈسٹری نے سوالات اٹھادیے ہیں۔
یونیورسل سروسز فنڈ کے بورڈ میں بھی سیلولر کمپنیوں کی دو سالوں سے کوئی نمائندگی نہیں ہے جبکہ اگنائٹ میں بھی اور یونیورسل سروس فنڈ میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔
بیوروکریٹس کی ناقص پالیسیوں کے باعث اہم منصوبے رُک چکے ہیں، جبکہ پاکستان کا ڈیجیٹل مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے۔
ٹیلی کام اور آئی ٹی انڈسٹری نے یونیورسل سروس فنڈ میں گزشتہ دو سال کے دوران کسی قابل ذکر پراجیکٹ کا آغاز نہ ہونے، پرانے پراجیکٹس منسوخ کیے جانے اور آئی ٹی میں افرادی قوت کی بہتری اور تخلیقی رجحانات کے فروغ کے لیے قائم کردہ ادارے اگنائٹ میں ٹیلی کام انڈسٹری کی نمائندگی نہ ہونے پر تحٖظات کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسل سروس فنڈ اور اگنائٹ جیسے اہم اداروں میں ٹیلی کام انڈسٹری کے ریونیو سے اربوں روپے کے فنڈز جمع کیے گئے تاہم ترقی کا عمل دو سال سے جمود کا شکار ہے۔ گزشتہ دو سالوں سے یہ فنڈز کسی بڑے ترقیاتی منصوبے پر خرچ نہیں کیے گئے۔
حکومت کی جانب سے ٹیلی کام انڈسٹری کے ماہرین کو USF اور Ignite کے بورڈز سے باہر رکھنے کے فیصلے نے نہ صرف شفافیت پر سوالات کھڑے کیے ہیں بلکہ ڈیجیٹل ترقی کے سفر کو بھی متاثر کیا ہے۔
ٹیلی کام انڈسٹری کا کہنا ہے کہ یونیورسل سروس فنڈ کے کسی بھی نئے منصوبے کا آغاز نہیں ہوا جبکہ تقریباً 50 ارب روپے کے فنڈز غیر استعمال شدہ پڑے ہیں۔ پہلے سے طے شدہ منصوبے ختم کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث دیہی اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بہتری مزید تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔ فنڈنگ کی کمی کے باعث متعدد منصوبے بند ہو چکے ہیں، جس سے مالی بے ضابطگیوں کے خدشات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ٹیلی کام انڈسٹری کے نامزد کردہ افراد USF اور Ignite کے بورڈز میں شامل تھے، تب یہ ادارے بہترین کارکردگی دکھا رہے تھے تاہم، گزشتہ دو سالوں سے حکومت نے ٹیلی کام کمپنیوں کے موبائل فون کمپنیوں کے نمائندوں (CMO) کی نامزدگی کو مسترد کیا ہے، جس کے نتیجے میں فیصلے ایسے افراد کے ہاتھ میں چلے گئے ہیں جو ٹیلی کام انڈسٹری کی تجارتی حقیقتوں سے واقف نہیں۔
یونیورسل سروس فنڈ کے ترقیاتی منصوبے منجمند ہونے سے ملک کے دور دراز علاقے زیادہ متاثر ہورہے ہیں جن میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سرفہرست ہیں ان علاقوں میں نیٹ ورک کوریج اور انٹرنیٹ ایکسپینشن نہ ہونے کے برابر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشکل جغرافیہ، کم آبادی، اور مہنگے انفراسٹرکچر کی وجہ سے نجی سرمایہ کاری تبھی ممکن ہے جب USF سپورٹ فراہم کرے، مگر منصوبوں میں تاخیر نے ان علاقوں کو مزید ڈیجیٹل پسماندگی میں دھکیل دیا ہے۔
اسی طرح Ignite کے قیام کا بنیادی مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی اور نوجوانوں کو عالمی فری لانسنگ مارکیٹ کے لیے تیار کرنا ہے، لیکن حالیہ جمود کی وجہ سے اہم IT ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہو گئے ہیں۔
فائیو جی، مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) سمیت سائبر سیکیورٹی جیسے اہم شعبوں میں مواقع ضائع ہو رہے ہیں اور ڈیجیٹل مہارتوں میں کمیسے پاکستان کی عالمی مارکیٹ میں مسابقت کم ہو رہی ہے۔
اس ضمن میں ٹیلی کام انڈسٹری کی جانب سے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونی کیشن کو متعدد مراسلے بھیجے جاچکے ہیں جن میں یونیورسل سروس فنڈ اور اگنائٹ کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے ڈیجیٹل پاکستان کے تصور کے لیے خطرہ قرار دیا ہے
ٹیلی کام انڈسٹری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسل سروس فنڈ اور اگنائٹ کے بورڈز میں ٹیلی کام کمپینیوں کے نمائندوں کی فوری تقرری کی جائے تاکہ صنعت کی نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور IT ترقی میں مزید پیچھے رہ جائے گا، لاکھوں لوگ تنہا ہو جائیں گے، اور اہم اقتصادی مواقع ضائع ہو نے کا خدشہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یونیورسل سروس فنڈ اور اگنائٹ ٹیلی کام انڈسٹری کے کا کہنا ہے کہ میں ٹیلی کام کا شکار ہو کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
سٹی 42:سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دیتےہوئے کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔
وزیر اعلی کے پی فیکٹری ناکہ سے واپس روانہ ہو گئے ۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کی فیکٹری ناکہ سے روانگی سے قبل میڈیا ٹاک میں کہا اگر اس مرتبہ بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر سے پارلیمنٹرین 10جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔2026-27کا بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں،مطالبہ کے کہ کے پی حکومت بانی کی ہے۔کے پی عوام نے بانی کو ووٹ دیا وہ انکو چاہتی ہے ۔کے پی عوام چاہے گی کہ بجٹ بانی کی خواہشات کے مطابق بنے ۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بجٹ کے حوالے سے میری اور وزیر خزانہ سے ملاقات ہو تاکہ ان سے بجٹ کی اپروول لے سکیں۔ہم کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں،امید ہے اس دفعہ ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے گی،آج بھی بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔بانی نے کوئی جرم نہیں کیا،انکو اغوا کرکے ناحق قید رکھا گیا ہے۔
پنجاب کی جعلی حکومت،جیل انتظامیہ کی وجہ سے بانی کی آنکھ میں مسئلہ ہوا،عوام میں تشویش ہے کہ بانی کی ملاقات بند ہے،وہ اندر کیا کر رہے ہیں کہ تمام چیزیں روکی ہوئی ہیں۔یہ کیوں ملاقات نہیں کروا رہے،کے پی سے امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے،میں نے ملاقات کا مطالبہ کرکےکوئی غلط ڈیمانڈ نہیں کی۔کے پی میں عوام نے بانی کو مینڈیٹ دیا یہ انکا حق ہے کہ بجٹ بانی کی مرضی کے مطابق ہو ۔ کے پی کا وزیر اعلی بانی تبدیل کر سکتے ہیں باقی کسی میں جرات نہیں،وہ ہلا بھی سکے ۔محسن نقوی سے ملاقات بیرسٹر گوہر کے کہنے پر ہوئی ۔افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،وہاں پر کیا انٹرسٹ ہو سکتا ہے اگر ہم ان سے لڑائی کریں ۔کسی کی خوشنودی کے لئے ان سے تعلقات خراب ہو رہے ہیں،
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
بجٹ میں بانی کی ہدایات کو شامل کیا گیا ہے،سوشل ویلفیئرتعلیم،صحت کو شامل کیا گیا ۔بانی نے کہا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے
2026میں پاکستان انکے مشورے پر عمل کرتا ہے تو دنیا میں اسکی واہ واہ ہوتی ہے ۔ہر بندہ بولتا ہے کہ کرپشن ہو رہی ہے میں نے وزیراعلی کے دروازے کھلے رکھے ہیں کرپشن کے ثبوت لائیں۔