اسلام آباد میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگانا لازمی ہوگا: چیئر مین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
اسلام آباد میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگانا لازمی ہوگا: چیئر مین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ڈی اے بورڈ کے ممبران متعلقہ ڈی جیز، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرز، آئی سی ٹی اور دیگر سنئیر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں اسلام آباد میں ڈیجیٹل پارکنگ، گاڑیوں پر ایم ٹیگ کا نفاذ اور کیش لیس ٹرانزیکشنز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگانا لازمی ہوگا۔ ایم ٹیگ کے بغیر کسی بھی گاڑی کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسکے علاوہ ڈیجیٹل پارکنگ کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔ اسکے علاوہ پارکنگ میٹرز لگائے جائیں گے۔ رش والی جگہوں پر پارکنگ کے چارجز زیادہ ہونگے۔
چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے ٹریفک سروے، اسلام آباد میں روزانہ کی بنیاد پر داخل اور خارج ہونے والی گاڑیوں کا سروے کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ڈیجیٹل پارکنگ سسٹم کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ اس نظام کو مزید مثر بنانے کیلئے جہاں ایک موبائل ایپ یا آن لائن پلیٹ فارم متعارف کرایا جائے گا جسکے زریعے شہری پارکنگ کی جگہ کیس لیس ٹرانزیکشنز کے زریعے سے ہی پارکنگ کی جگہ بک کروا سکیں گے اس سے نہ صرف وقت کی بچت ممکن ہوگی بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کے دبا میں بھی کمی آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے مختلف تجارتی مراکز اور معروف علاقوں میں شہری ڈیجیٹل طریقے سے پارکنگ کرسکیں گے اس سسٹم کے تحت شہری موبائل ایپ یا کیو آر (QR) کوڈ کے ذریعے اپنی پارکنگ فیس ادا کرسکیں گے۔ اس جدید نظام سے پارکنگ کی تلاش میں وقت کے ضیاع کے خاتمے میں مدد کے علاوہ غیر قانونی پارکنگ پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے ون ونڈو فیسلییٹیشن سینٹر پر کیش لیس پیمنٹ سسٹم متعارف کروا رہا ہے وہاں اب شہری مختلف خدمات جیسے پارکنگ فیس، فیسوں کی ادائیگی، پراپرٹی اور بجلی کے بلز کی ادائیگی موبائل ایپس، بینک کارڈز یا کیو آر (QR) کوڈز اسکین کرکے کرسکیں گے جسکے لئے جدید ڈیجیٹل سسٹم متعارف کروایا جائے گا۔
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ ہم اسلام آباد کو سیف سے سمارٹ شہر بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ ایم ٹیگ کے نفاذ، ڈیجیٹل پارکنگ اور کیش لیس نظام سے نہ صرف عوام کو پارکنگ کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اسلام آباد کی مجموعی سیکورٹی کی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی بلکہ ڈیجیٹل پارکنگ، ایم ٹیگ اور کیش لیس ٹرانزیکشنز کے نظام جیسے اقدامات کی بدولت اسلام آباد کو جدید سمارٹ اور مثالی دارالحکومت بنانیمیںمددملیگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنومئی کیس میں 10، 10سال کی سزا پانے والے پی ٹی آئی رہنماوں کا ردعمل سامنے آگیا روانڈا کی ہائی کمشنر کی چیئرمین سی ڈی اے سے ملاقات،دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بڑھانے پر تبادلہ خیال بلوچستان میں غیرت کے نام پر ایک اور جوڑا موت کے گھاٹ اتار دیا گیا چھبیسویں ترمیم معاہدہ: حکومت وعدے پر قائم نہیں رہتی تو ہمیں عدالت جانا ہوگا، مولانا فضل الرحمان وزیراعظم سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، پاک برطانیہ تعلقات پر تبادلہ خیال ایم کیو ایم رہنما فضل ہادی کے قتل پر شدید ردعمل، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ سی ڈی اے افسران کو زرعی پلاٹ کی منتقلی کیلئے خلیجی ملک جانے سے روک دیا گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد میں داخل گاڑیوں پر ایم ٹیگ ہونے والی اجلاس میں سی ڈی اے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔