سٹی 42: چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اہم اجلاس ، سکیورٹی اور کار پارکنگ کے حوالے سے بڑے فیصلے کیے گئے 

چیئرمین سی ڈی اے  نے اسلام آباد میں داخلے کیلئے ایم ٹیگ لازمی قرار دے دیا گیا ،ایم ٹیگ کے بغیر کسی گاڑی کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی

اسلام آباد میں ڈیجیٹل پارکنگ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،رش والے علاقوں میں پارکنگ فیس زیادہ ہوگی ۔  چیئرمین سی ڈی اے  محمد علی رندھاوا کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں پارکنگ میٹرز اور کیو آر کوڈز کا استعمال متعارف کروایا جائے گا،پارکنگ کی ادائیگی اب کیش لیس ہوگی جس  میں موبائل ایپ اور QR کوڈز کا استعمال ہو گا ۔سی ڈی اے ون ونڈو سینٹر پر ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام نافذ کیا جائے گا ۔اب شہری پراپرٹی و بجلی کے بل بھی موبائل ایپ سے ادا کر سکیں گے ۔ہم نے اسلام آباد کو محفوظ و سمارٹ شہر بنانے کا عزم کیا ہے ۔

مون سون بارشیں, پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

چیئرمین سی ڈی اے نے ٹریفک سروے اور یومیہ گاڑیوں کے داخلے و اخراج کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ہدایت کردی 

اسلام آباد میں جدید ڈیجیٹل نظام سے غیر قانونی پارکنگ پر قابو پایا جائے گا ۔،ایم ٹیگ، ڈیجیٹل پارکنگ، کیش لیس سسٹم سے سیکیورٹی بھی بہتر ہوگی ۔ محمد علی رندھاوا

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے