اسلام آباد میں داخلے کیلئے ایم ٹیگ لازمی قرار; ڈیجیٹل پارکنگ اور کیش لیس سسٹم متعارف کروانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
سٹی 42: چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اہم اجلاس ، سکیورٹی اور کار پارکنگ کے حوالے سے بڑے فیصلے کیے گئے
چیئرمین سی ڈی اے نے اسلام آباد میں داخلے کیلئے ایم ٹیگ لازمی قرار دے دیا گیا ،ایم ٹیگ کے بغیر کسی گاڑی کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی
اسلام آباد میں ڈیجیٹل پارکنگ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،رش والے علاقوں میں پارکنگ فیس زیادہ ہوگی ۔ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں پارکنگ میٹرز اور کیو آر کوڈز کا استعمال متعارف کروایا جائے گا،پارکنگ کی ادائیگی اب کیش لیس ہوگی جس میں موبائل ایپ اور QR کوڈز کا استعمال ہو گا ۔سی ڈی اے ون ونڈو سینٹر پر ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام نافذ کیا جائے گا ۔اب شہری پراپرٹی و بجلی کے بل بھی موبائل ایپ سے ادا کر سکیں گے ۔ہم نے اسلام آباد کو محفوظ و سمارٹ شہر بنانے کا عزم کیا ہے ۔
مون سون بارشیں, پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
چیئرمین سی ڈی اے نے ٹریفک سروے اور یومیہ گاڑیوں کے داخلے و اخراج کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ہدایت کردی
اسلام آباد میں جدید ڈیجیٹل نظام سے غیر قانونی پارکنگ پر قابو پایا جائے گا ۔،ایم ٹیگ، ڈیجیٹل پارکنگ، کیش لیس سسٹم سے سیکیورٹی بھی بہتر ہوگی ۔ محمد علی رندھاوا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔