جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کی سربراہی سے دستبردار
اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT
چیئرمین نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے 1 ماہ کا نوٹس دیدیا، چیئرمین این آئی آر سی نے معاہدے کی منسوخی کے لیے صدر کو بذریعہ سیکریٹری وزارت اوورسیز پاکستانیز نوٹس بھجوا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی ختم، ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری
چیئرمین نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے کمیشن کی سربراہی چھوڑنے کے لیے 1 ماہ کا نوٹس دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بدقسمتی سے کچھ حالات کے پیش نظر وہ اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتے۔
’یہ ذمہ داری ملنا میرے لیے اعزاز کی بات تھی، 3 ماہ کے دوران کارکنوں کو تیز ترین انصاف فراہم کرنے کی پوری کوشش کی، یہی وجہ ہے کہ این آئی آر سی میں زیر التوا کیسز کی تعداد تیزی سے کم ہوئی۔‘
جسٹس ریٹائرڈ شکت عزیز صدیقی کو 2 دسمبر 2024 کو 3 سال کے عرصہ کے لیے چیئرمین این آئی آر سی تعینات کیا گیا تھا اور انہوں نے 4 دسمبر کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔
مزید پڑھیں: سابق جج ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی چیئرمین این آئی آر سی تعینات
واضح رہے کہ شوکت عزیزصدیقی کو 2018میں بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ برطرف کر دیا گیا تھا جبکہ سپریم کورٹ نے مارچ 2024 میں ان کی برطرفی کو کالعدم قرار دیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوورسیز پاکستانیز جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوورسیز پاکستانیز جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔