نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈیسک)بھارتی حکومت نے مقامی صنعتوں کو فروغ دینے اور امریکی جوابی ٹیرف کے ممکنہ اثرات سے بچانے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں (EV) کی بیٹریوں اور موبائل فون کی تیاری میں استعمال ہونے والی متعدد اشیا پر درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے منگل کے روز پارلیمنٹ میں فنانس بل 2025 پر ووٹنگ سے قبل کہا کہ حکومت کا مقصد مقامی پیداوار کو بڑھانا اور برآمدی مسابقت کو بہتر بنانا ہے، اسی لیے خام مال پر عائد ڈیوٹی میں کمی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ الیکٹرک وہیکل (ای وی) بیٹریوں کی تیاری میں استعمال ہونے والی 35 اشیاء اور موبائل فون بنانے میں استعمال ہونے والی 28 اشیاء کو درآمدی ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

بھارت، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوابی ٹیرف کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پہلے سے ہی اقدامات کر رہا ہے، جو 2 اپریل سے نافذ ہونے والے ہیں۔ دونوں ممالک تجارتی مسائل حل کرنے اور دو طرفہ تجارتی معاہدے تک پہنچنے کے لیے بات چیت میں مصروف ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، حکومت 23 ارب ڈالر مالیت کی امریکی درآمدات میں سے نصف سے زائد پر ٹیرف میں کمی کے لیے تیار ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان زیر بحث تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے کا حصہ ہوگا۔

گزشتہ ہفتے، بھارت پارلیمانی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ مقامی صنعتوں کی مدد کے لیے خام مال کی درآمد پر عائد محصولات میں کمی کی جائے۔
مزیدپڑھیں:کراچی والوں کیلئے اچھی خبر، شدید گرمی کی شدت میں کمی کا امکان

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: میں استعمال ہونے والی کے لیے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا