فوٹو: فائل

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نادر شفیع نے کہا ہے کہ پاکستانی ایئرلائنز کے متعلق برطانوی حکام نے تحریری طور پر کچھ نہیں بتایا۔

انکا کہنا تھا کہ سی اے اے کو برطانوی حکام کے جواب کا انتظار ہے۔

ادھر ترجمان قومی ایئرلائن کا کہنا ہے کہ قومی ایئرلائن تاحال برطانوی حکام کے فیصلے کی منتظر ہے، یورپ میں پابندی ہٹنے کے بعد برطانیہ سے بھی مثبت جواب کا انتظار ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی وزارت ٹرانسپورٹ نے کہا تھا کہ پاکستانی ایئرلائنز ایئر سیفٹی لسٹ میں رہیں گی۔ پاکستان اور برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹیز کے ساتھ اِس معاملے میں رابطے میں ہیں۔

پاکستانی ایئرلائنز ایئر سیفٹی لسٹ میں رہیں گی، برطانوی وزارت ٹرانسپورٹ

ترجمان برطانوی وزارت ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹیز کے ساتھ اِس معاملے میں رابطے میں ہیں۔

ترجمان وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق ایئرلائنز کو پابندی ہٹانے کےلیے ٹھوس عمل سے گزرنا ہوتا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ برطانوی ایئر سیفٹی اتھارٹی نے ایک بار پھر فیصلہ مؤخر کردیا۔ معاملہ قومی ایئرلائن کے جہاز کا ٹائر گر جانے کے بعد تاخیر کا شکار ہوا۔ 

ذرائع کے مطابق ورلڈ ایئرسیفٹی اور ایئربس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تحقیقات کے مکمل ہونے تک انتظار کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پاکستانی ایئرلائنز وزارت ٹرانسپورٹ برطانوی حکام کا کہنا

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق