امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان سمیت 8 ممالک کی 70 کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
واشنگٹن(نیوزڈیسک) امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان، چین، متحدہ عرب امارات، ایران، فرانس، سینیگال، برطانیہ اور افریقہ کی 70 کمپنیوں پر برآمدی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس میں 19 پاکستانی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا کا دعویٰ ہے کہ ان کمپنیوں کی سرگرمیاں اس کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے منافی ہیں۔ یہ پابندیاں ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب عالمی سطح پر تجارتی جنگ اور اسٹریٹیجک مقابلے میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب امریکا نے پاکستانی کمپنیوں پر اس نوعیت کی پابندیاں عائد کی ہوں۔ 2024 میں امریکہ نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک کمپنیوں پر بھی ایسی ہی پابندیاں لگائی تھیں۔
2021 میں بھی امریکا نے پاکستان کی 13 کمپنیوں پر جوہری اور میزائل پروگرام میں معاونت کے الزامات لگا کر پابندیاں عائد کی تھیں۔ 2018 میں 7 پاکستانی انجینئرنگ کمپنیوں کو امریکی نگرانی کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق، امریکی پابندیاں نہ صرف پاکستان اور چین کی دفاعی اور تجارتی صنعت کو متاثر کر سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اقتصادی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں۔پاکستان کی جانب سے تاحال سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں پاک-امریکا تجارتی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتی ہیں۔
ہیومن ملک بینک اور بغیر اجازت دوسری شادی سے متعلق امور پر غور کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس طلب
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پابندیاں عائد نے پاکستان کمپنیوں پر
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔