چین کا نئے J-35 اسٹیلتھ فائٹر طیارے نے امریکی بحریہ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
بیجنگ: امریکا طویل عرصے سے اپنی بحری افواج کے ذریعے دنیا میں جدید ترین اسٹیلتھ لڑاکا طیارے رکھنے والا واحد ملک تھا، لیکن اب چین نے بھی پہلا اسٹیلتھ فائٹر جیٹ J-35 اپنی بحریہ میں شامل کر لیا ہے جو امریکی بحری طاقت کو براہِ راست چیلنج کرتا ہے۔
چینی پیپلز لبریشن آرمی نیوی (PLAN) نے J-35 فائٹر جیٹس کے دو یونٹ حاصل کر لیے ہیں، جو طیارہ بردار جہازوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ چینی سوشل میڈیا ویب سائٹ ویبو پر شیئر کی گئی تصاویر میں دونوں طیارے پرواز کرتے دکھائی دیے، جن کے نمبر 0011 اور 0012 ہیں۔
یہ طیارے چینی نیوی کے موجودہ طیارے J-15B کے ساتھ پرواز کر رہے تھے، اور ان پر بھی ’شارک مارکنگز‘ موجود تھیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ اب چینی نیوی کا حصہ بن چکے ہیں۔
چین نے شمالی ضلع شینبی میں ایک 2 لاکھ 70 ہزار مربع میٹر کا بڑا پلانٹ بنایا ہے، جہاں ہر سال 100 J-35 طیارے تیار کرنے کی صلاحیت ہوگی۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ چین کے اس ارادے کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ امریکی نیوی کو جلد ٹکر دینے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔
فی الحال امریکا کے پاس 11 نیوکلیئر پاورڈ ایئرکرافٹ کیریئرز ہیں، جب کہ چین کے پاس دو – لیاؤننگ اور شینڈونگ – فعال ہیں، جبکہ تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز “فوجیان” سمندری تجربات سے گزر رہا ہے۔ چوتھا کیریئر “ٹائپ 004” جوہری توانائی سے چلنے والا ہوگا۔
جون 2025 میں، چین کے دو کیریئرز لیاؤننگ اور شینڈونگ نے پہلی بار بحرالکاہل میں مشترکہ جنگی مشقیں کیں، جسے ماہرین امریکہ کے لیے ایک “سخت پیغام” قرار دے رہے ہیں۔
And even closer both PLAN Naval Aviation J-35.
— @Rupprecht_A (@RupprechtDeino) July 20, 2025
دوسری جانب امریکا کا F-35C لڑاکا طیارہ پہلے ہی کئی طیارہ بردار بحری جہازوں پر تعینات ہے، جن میں یو ایس ایس ابراہم لنکن بھی شامل ہے۔ اس نے نومبر 2024 میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف اپنی پہلی جنگی کارروائی انجام دی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔