حکومت سولر صارفین سے بجلی خریدنے کی قیمتیں کم کرنے سے پیچھے ہٹ گئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
وزیر توانائی نے کہا کہ کابینہ نے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین سے متعلق نئی پالیسی منظور نہیں کی، کابینہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ اس پالیسی پر دوبارہ غور کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت سولر صارفین سے بجلی خریدنے کی قیمتوں کو کم کرنے سے پیچھے ہٹ گئی۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ کابینہ نے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین سے متعلق نئی پالیسی منظور نہیں کی، کابینہ نے ہدایت جاری کی ہے کہ اس پالیسی پر دوبارہ غور کیا جائے۔ اویس لغاری نے کہا کہ سولر نیٹ میٹرنگ سے متعلق پالیسی پر دوبارہ غور کیا جائے گا، ای سی سی نے سولر نیٹ میٹرنگ سے متعلق نئی پالیسی کی منظوری دی تھی۔ نئی پالیسی کے تحت سولر نیٹ میٹرنگ صارفین سے حکومت نے 10 روپے فی یونٹ بجلی خریدنی تھی، پالیسی پر غور و فکر کے بعد اس کو دوبارہ بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سولر نیٹ میٹرنگ نئی پالیسی کابینہ نے صارفین سے پالیسی پر
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔