ٹیکس ہدف کمی آفر نہ مان کر آئی ایم ایف کو حیران کر دیا: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنخواہ دار طبقے اور عام آدمی نے بوجھ برداشت کیا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اب تک 12 کھرب روپے اضافی وصول کئے جاچکے ہیں۔ ملک کو معاشی استحکام کی منزل سے ہمکنار کرنا ایک طویل جدوجہد ہے۔ ہمیں قرضوں کو ختم کرکے اپنے پائوں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ پاکستان بہت جلد اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرلے گا۔ رمضان پیکج کے حوالے سے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈیجیٹل والٹ کا اجراء کیا گیا، پیکج کے تحت 20ارب روپے میں سے 60فیصد رقم تقسیم کی جاچکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کی والدہ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کی طرف سے چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے معاونین خصوصی سمیت وفاقی کابینہ کے تمام شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کابینہ کو بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ گزشتہ شب سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ نائب وزیراعظم، وزیر خزانہ، دیگر متعلقہ وزراء اور حکام کے شکرگزار ہیں جنہوں نے دن رات کام کیا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں آرمی چیف کا بھی کلیدی کردار رہا۔ دن رات کی محنت اور ایک ٹیم ورک کے نتیجے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے حوالے سے اغیار کے اوچھے ہتھکنڈوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ڈھنڈورے پیٹے تھے کہ منی بجٹ کے بغیر آئی ایم ایف آگے نہیں بڑھے گا۔ موجودہ حکومت نے ایک مشکل اور چیلنجنگ صورتحال جبکہ دو صوبوں میں دہشتگردی جاری اور مہنگائی عروج پر تھی، ایک ٹیم ورک کے طور پر کام کیا اور حکومت کی انتھک کاوشوں کے باعث اتنا جلد یہ ہدف حاصل کرنا ممکن ہوا۔ دہشتگردی اور مہنگائی کے باوجود معاہدہ طے پانا حکومت کی سنجیدگی کا عکاس ہے۔ پوری قوم نے اس ہدف کے حصول میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ کامیابی سے معاہدے کے طے ہونے میں عام آدمی کا بھی انتہائی اہم کردار ہے۔ انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام میں صوبوں کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ زرعی ٹیکس کے بغیر آئی ایم ایف نے آگے نہیں بڑھنا تھا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں 1.
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وفاقی کابینہ نے پاور ڈویژن کی سفارش پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا حجم بجلی صارفین کی قیمتوں کو کم کرنے کیلئے استعمال کرنے کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے پاور ڈویژن کی سفارش پر سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے ) کو بیگاس پر چلنے والے پاور پلانٹس کے ساتھ معاہدوں کو نظرثانی شدہ شرائط کے مطابق دستخط کرنے کی منظوری بھی دے دی۔ وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر وسل بلوئر پروٹیکشن اینڈ وجیلینس کمیشن ایکٹ، 2025 کی اصولی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے ریونیو ڈویژن کی سفارش پر اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کی حدود میں انکم ٹیکس، سروسز پر سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹیز میں مزید ترامیم کی بھی منظوری دے دی۔ یہ ترامیم ریسورس موبلائزیشن اور یوٹیلائزیشن ریفارم پروگرام کے حوالے سے پالیسی ایکشنز کے طور پر کی گئی ہیں۔ اس حوالے سے کچھ ترامیم 2023 اور 2024 میں کی جا چکی ہیں۔ وفاقی کابینہ نے ریونیو ڈویژن کی سفارش پر کل وقتی اساتذہ اور محققین کی آمدنی پر ٹیکس ریبیٹ کی بحالی کے حوالے سے انکم ٹیکس (سیکنڈ امنڈمینٹ) بل 2025 کی بھی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے 11 مارچ 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 13 مارچ 2025 اور 21 مارچ 2025 کو ہوئے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی تاہم وفاقی کابینہ نے ای سی سی کی منظور شدہ سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز سے متعلق مشاورت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور تمام سٹیک ہولڈرز سے مزید رائے لینے کے بعد سفارشات کو کابینہ کو دوبارہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ اجلاس میںپیٹرولیم قیمتوں میں کمی کا فائدہ بجلی صارفین تک پہنچانے ، سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشنزمشاورت کے بعد سفارشات دوبارہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
اسلام آباد:ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان کردیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا باقاعدہ آغاز 27 جولائی سے ہوگا۔ ترجمان کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے درست، مکمل اور دیانتداری کے ساتھ جمع کرائیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ترجمان ایف بی آر کے مطابق ٹیکس ریٹرن میں فراہم کی جانے والی تمام معلومات درست اور حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے کہ گوشوارے میں درج تمام تفصیلات حقائق کے مطابق ہوں تاکہ شفافیت اور درستگی برقرار رہے۔
ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ بروقت اور درست ٹیکس گوشوارے مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے ریٹرن بروقت جمع کرائیں اور معلومات کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔