بھارت کو دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اقلیت دشمن رویے پر غور کرنا چاہیے، ترجمان دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت اقلیتوں کے حقوق کا چیمپئن بننے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق لوک سبھا میں بھارتی خارجہ امور کے شر انگیز بیان پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اقلیتوں کے حقوق کا چیمپئن نہ بنے، وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے،ترجمان نے کہا بھارت خود اقلیتوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، بھارت میں اقلیتوں پر حملے حکومتی سرپرستی میں ہوتے ہیں، جب کہ پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ریاستی ادارے متحرک ہیں۔
فیس بک میں بڑی تبدیلی کا اعلان
انھوں نے کہا انڈیا میں اقلیتوں کے خلاف نفرت، امتیاز اور تشدد کی سرپرستی کی جاتی ہے، شہریت ترمیمی قانون سے مساجد پر حملوں تک بھارت کا ریکارڈ اقلیت دشمنی سے بھرا ہے، اور گجرات قتل عام، دہلی فسادات، بابری مسجد کی شہادت بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کی داستانیں ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا انڈیا کو دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اقلیت دشمن رویے پر غور کرنا چاہیے، مودی سرکار اقلیتوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے، بیانات کافی نہیں ہیں، بھارت میں اقلیتوں کی جان و مال، عبادت گاہیں غیر محفوظ ہیں۔
صائم ایوب پی ایس ایل 10 کا حصہ ہونگے یا نہیں؟ فیصلہ آج متوقع
واضح رہے کہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مودی سرکار نے وقف املاک پر قبضے کی مہم تیز کر دی ہے، مودی سرکار نے وقف ایکٹ میں ترامیم متعارف کروا کر بھارت میں مسلم املاک پر قبضے کا آغاز کر دیا ہے، بھارت میں 8 لاکھ سے زائد وقف جائیدادوں کی مالیت 14.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: میں اقلیتوں اقلیتوں کے دفتر خارجہ بھارت میں نے کہا
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔