Express News:
2026-07-24@13:07:32 GMT

زرعی سیکٹر کی گروتھ میں 1.1 فیصد تک نمایاں کمی

اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT

کراچی:

ملک میں رواں مالی سال کی دوسری سہہ ماہی کے دوران زرعی سیکٹر کی گروتھ میں 1.1 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 6.1 فیصد تھی. 

اس کمی کی بڑی وجہ کپاس کی پیداوار میں 31 اور مکئی کی پیداوار میں 15.4 فیصد کی بڑی کمی ہے. 

سندھ ایگریکلچر چیمبر کے صدر میران محمد شاہ نے کہا کہ یہ کمی میرے لیے حیران کن نہیں ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نمی کی سطح میں کمی آئی ہے، جس سے کپاس کی پیداوار دو ضلعوں سانگھڑ اور نوابشاہ تک محدود ہوگئی ہے.

 

مزید پڑھیں: زراعت، ٹیکنالوجی اورانرجی سیکٹرکو ترجیح دی جائے، ماہرین

امکان ہے کہ گندم کی فصل کا بھی یہی حال ہوگا، حکومت کی جانب سے امدادی قیمت مقرر نہ کرنا اور مہنگے بیج اور کھاد نے کسان کو مشکل میں ڈال دیا ہے، اوپر سے خشک سالی بھی اپنا رنگ دکھا رہی ہے. 

اگر مناسب بارشیں نہ ہوئیں تو پاکستان کو تمام بڑی شرعی اجناس درآمد کرنا پڑ سکتی ہیں، جس سے ملک میں غذائی تحفظ کا شدید بحران پیدا ہوسکتا ہے. 

پنجاب کے ایک کسان حامد ملک نے بتایا کہ چاول کی پیداوار کم ہو کر 9.5 مین ٹن رہ گئی ہے، جو گزشتہ سال 9.8 ملین ٹن تھی، اس کے برعکس مکئی اور گنے کی پیداوار میں 3 فیصد اضافہ ہوا ہے، باغبانی اور لائیو اسٹاک سیکٹر میں بھی اضافہ دیکھا گیا. 

مزید پڑھیں: پاکستان اٹلی کے مابین مشاورت کا چھٹا دور، تجارت، زراعت، دفاع اور تعلیم میں تعاون بڑھانے پر بات

لیکن کپاس اور مکئی جیسی بڑی اجناس کی پیداوار میں بڑی کمی کی وجہ سے مجموعی طور پر زرعی معیشت گراوٹ کا شکار ہوگئی ہے. 

سندھ آباد گار بورڈ کے نائب صدر محمود نواز شاہ نے کہا کہ جون اور جولائی میں یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ کپاس کی پیداوار کم رہے گی، اور اب اس کی تصدیق ہورہی ہے، چاول کی پیداوار بھی کم رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ چینی کی پیداوار بھی کم رہے گی، گندم کی ابتدائی پیداوار بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم بتائی جارہی ہے. 

کنکیو ایگری سروسز کے صدر محمد علی اقبال نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ان پٹ لاگت کے باجود فصلوں میں کمی ایک بڑا مسئلہ ہے، ماحولیاتی تبدیلی اور لیکویڈیٹی کے مسائل بھی کسان کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی پیداوار میں

پڑھیں:

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

پشاور (نیوز ڈیسک) سرکاری ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی، پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی سرکاری پنشنرز کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

حکومتی اعلامیے میں کہا گیا کہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگیا اور اس سے تمام صوبائی سرکاری پنشنرز مستفید ہو سکیں گے۔

محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پنشن میں اضافے کے حوالے سے اہم نکات اور شرائط واضح کی گئی ہیں۔

جس میں کہا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ 30 جون 2026 تک حاصل کردہ نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا اور یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے کے حقدار ہوں گے۔

یہ اضافہ فیملی پنشن اور کمپیشنٹ الاؤنس کے کیسز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم صوبائی حکومت کے اہل پنشنرز بھی مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ 7 فیصد اضافہ پہلے سے ملنے والی کسی بھی “خصوصی اضافی پنشن” پر لاگو نہیں ہوگا۔

خیبرپختونخوا حکومت کے اس اقدام کو صوبے کے لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے موجودہ معاشی صورتحال میں ایک بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے

متعلقہ مضامین

  • سیالکوٹ میں نالہ ایک کا بند ٹوٹ گیا، دھان کی سینکڑوں ایکڑ فصل کو خطرہ
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر متاثر, بس اڈے پر مسافروں میں نمایاں کمی
  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ