عیدالفطر کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج لاہور میں ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
لاہور:
پاکستان میں شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج (30 مارچ) کو منعقد ہوگا۔
اجلاس میں علمائے کرام اور محکمہ موسمیات کے ماہرین شرکت کریں گے، جبکہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں محکمہ اوقاف بلڈنگ میں بھی چاند دیکھنے کا اہتمام کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق شوال کا چاند گزشتہ روز دوپہر 3 بجکر 59 منٹ پر پیدا ہو چکا ہے اور آج مغرب کے وقت اس کی عمر 25 گھنٹے سے زیادہ ہوگی جس کے باعث اسے انسانی آنکھ سے باآسانی دیکھا جا سکے گا۔
ریسرچ رویت ہلال کمیٹی کونسل کے مطابق چاند نظر آنے کے قومی امکانات موجود ہیں اور اگر ملک بھر سے شہادتیں موصول ہوئیں تو پاکستان میں عید الفطر 31 مارچ کو منائی جائے گی۔ تاہم چاند کی رویت کا حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رویت ہلال کمیٹی
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔