عید سے قبل کراچی والوں کو سوگ میں ڈال دیا گیا ہے، خالد مقبول صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو شہر پھر سے 80ء کی دہائی کے حالات کی طرف جاتا دکھ رہا ہے، اس شہر کے لوگ پانی کا ٹیکس دینے کے باوجود پانی ٹنکروں سے خرید رہے ہیں، اگر کل عوام معاملات اپنے ہاتھ میں لے تو اسے کسی لسان کے خلاف نہ سمجھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ عید سے قبل کراچی والوں کو سوگ میں ڈال دیا گیا ہے، کراچی والوں کے خون سے پورے رمضان سڑکیں لہو لہان ہوتی رہی ہیں۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی میں سیکڑوں نوجوان ڈاکوؤں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں، بشریٰ زیدی کے واقعے نے کراچی کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ تسلسل کیساتھ ڈمپر سے ہلاکتیں ہورہی ہیں، کیا پیغام دیا جارہا ہے، ڈمپر نان کسٹم پیڈ اور اسمگل شدہ ہیں، انہیں مافیا طرز پر چلایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سسٹم ڈمپر مافیا کو سپورٹ کرتا ہے، چیف جسٹس کو خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا ہے اس پر سپریم کورٹ سوموٹو لے، عدالتیں ہمیں بتائیں کہ ہمیں انصاف کہاں سے ملے گا۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ حکمران بتائیں ریاست بتائے وزیراعظم اور صدر بتائیں ہم کہاں جائیں، ہمارے احتجاج کو ہمیشہ غلط سمجھا جاتا ہے، ایم کیو ایم حادثات میں جاں بحق افراد کے لیے پٹیشن دائر کرنے جارہی ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما نے مزید کہا کہ لیاری گینگ وار کی طرح اغوا برائے تاوان کی وارداتیں شروع ہوگئی ہیں، جعلی ڈومیسائل والوں کو پنشن مل جاتی ہے۔
چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو شہر پھر سے 80ء کی دہائی کے حالات کی طرف جاتا دکھ رہا ہے، اس شہر کے لوگ پانی کا ٹیکس دینے کے باوجود پانی ٹنکروں سے خرید رہے ہیں، اس ملک میں اگر کوئی سب سے زیادہ ٹیکس دے رہے ہیں وہ کراچی اراکین اسمبلی و شہری ہیں، اگر کل عوام معاملات اپنے ہاتھ میں لے تو اسے کسی لسان کے خلاف نہ سمجھا جائے، اگر سندھ کے شہری علاقوں کو صوبہ اون نہیں کرتا تو وفاق میدان میں آئے ڈمپر ٹنکر سے جاں بحق و زخمی ہونے والوں کے لئے معاوضے کا اعلان کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خالد مقبول صدیقی نے کہا ایم کیو ایم نے کہا کہ
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔