1975 میں ریلیز ہونے والی فلم ’شعلے‘ کا شمار بالی ووڈ کی معروف ترین فلموں میں ہوتا ہے۔ سلیم جاوید کی تحریر کردہ اس فلم میں امجد خان، امیتابھ بچن، دھرمیندر، ہیما مالینی، سنجیو کمار اور جیا بچن نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ جانیے اس فلم کے بارے میں چند دلچسپ حقائق۔
فلم کے اسکرین رائٹر، مصنف اور مکالمہ نگار سلیم خان اور جاوید اختر (سلیم جاوید) کو اس فلم کا معاوضہ 10 ہزار روپے دیا گیا تھا۔ اس زمانے میں یہ ایک خطیر رقم تھی۔ فلم کی لاگت 3 کروڑ روپے تھی جبکہ اس نے باکس آفس پر 350 کروڑروپے کا کاروبار کیا تھا۔
فلم میں ٹھاکر کا کردار ادا کرنے والے سنجیو کمار، درحقیقت گبر کا کردار نبھانا چاہتے تھے۔ ہدایتکار رمیش سپی کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے انہوں نے اپنے دانتوں کو سیاہ کیا تھا اور داڑھی بھی نکال دی تھی لیکن امجد خان کو گبر کے لیے موزوں ترین اداکار گردانا گیا۔ تاہم، سنجیو کمار نے ٹھاکر کا کردار نبھا کر ناظرین کا دل جیت لیا۔
مزید پڑھیں: معروف بھارتی فلم ’شعلے‘ کے اے آئی ورژن نے تہلکہ مچا دیا
کہتے ہیں کہ فلم میں ٹھاکر کا کردار ادا کرنے والے سنجیو کمار، درحقیقت ’گبر‘ کا کردار نبھانا چاہتے تھے۔ ہدایتکار رمیش سپی کو اس بات پر راضی کرنے کے لیے کہ انہوں نے اپنے دانتوں کو سیاہ کیا تھا اور داڑھی بھی نکال دی تھی لیکن امجد خان کو گبر کے لیے موزوں ترین اداکار گردانا گیا۔ تاہم سنجیو کمار نے ٹھاکر کا کردار نبھا کر ناظرین کا دل جیت لیا۔
اسکرپٹ پڑھنے کے بعد دھرمیندر ٹھاکر کا کردار ادا کرنا چاہتے تھے۔ انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ فلم کے کلیدی کردار گبر اور ٹھاکر ہیں۔ رمیش سپی نے دھرمیندر کو کہا کہ اگر کردار تبدیل کیے گئے تو سنجیو کمار کے مقابل ہیما مالینی ہیروئن ہوں گی، اس کے بعد دھرمیندر ویرو کا کردار نبھانے کے لیے تیار ہوئے۔
ابتدا میں جے کے کردار کے لیے شتروگہن سنہا سے بات چیت کی گئی تھی۔ لیکن سلیم خان نے مشورہ دیا کہ یہ کردار امیتابھ بچن کو ادا کرنا چاہیے۔ شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کو شعلے میں ٹھاکر بلدیو سنگھ کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن دلیپ کمار اس کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ سلیم خان نے ایک مرتبہ اپنے ایک انٹرویو میں اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں فلم میں دلیپ کمار کے ٹھاکر کا کردار ادا نہ کرنے پر اب بھی افسوس ہے۔
مزید پڑھیں: معروف بھارتی فلم ’شعلے‘ کے اے آئی ورژن نے تہلکہ مچا دیا
گبر کے لیے ڈینی ڈینزونگپا کے نام پر بھی غور کیا گیا تھا۔ لیکن وہ اس وقت افغانستان میں فلم دھرماتما کی شوٹنگ میں مصروف تھے اس لیے انہوں نے شعلے میں کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔
’گبر‘ کے لیے ڈینی ڈینزونگپا کے نام پر بھی غور کیا گیا تھا۔ لیکن وہ اس وقت افغانستان میں فلم ’دھرماتما‘ کی شوٹنگ میں مصروف تھے اس لیے انہوں نے ’شعلے‘ میں کام کرنے سے انکار کردیا تھا۔ سلیم خان کے والد ایک پولیس افسر تھے۔ انہوں نے سلیم خان کو ایک ڈاکو کی کہانی سنائی تھی جس کا نام گبر تھا۔
سلیم خان نے اسی ڈاکو سے متاثر ہو کر فلم میں گبر کا کردار لکھا، اور اسے یہی نام دیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بلدیو سنگھ چرک، سلیم خان کے سسر کا نام تھا۔ وہ ایک ریٹائرڈ فوجی تھے۔ سلیم خان کے والد ایک پولیس افسر تھے۔ انہوں نے سلیم خان کو ایک ڈاکو کی کہانی سنائی تھی جس کا نام ’گبر‘ تھا۔ سلیم خان نے اسی ڈاکو سے متاثر ہو کر فلم میں ’گبر‘ کا کردار لکھا، اور اسے یہی نام دیا تھا۔؎
فلم کے کلائمیکس کے کچھ مناظر کے لیے حقیقی بندوقوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ شوٹنگ کے دوران دھرمیندر سے غلطی سے گولی چل گئی تھی، امیتابھ بچن اس گولی کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گبر سنگھ کے لیے خاکی جوڑا ممبئی کے مشہور بازار سے خریدا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امیتابھ بچن دھرمندر شعلے ہیما مالنی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امیتابھ بچن شعلے ہیما مالنی امیتابھ بچن سلیم خان نے سنجیو کمار انہوں نے دیا تھا گیا تھا فلم میں خان کو فلم کے کے لیے
پڑھیں:
دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا کردار بالکل واضح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم ملکی استحکام، دفاع اور قومی یکجہتی میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور قیامِ پاکستان میں بھی بلوچستان کے عوام نے تاریخی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے مستونگ میں سیشن جج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔