عیدالفطر کا آج دوسرا روز، کھابوں اور موج مستی کے پلان تیار
اشاعت کی تاریخ: 1st, April 2025 GMT
میٹھی عید کے دوسرے دن کو بھی شہریوں نے بھرپور طریقے سے منانے کا پلان بنا لیا، کہیں سیر سپاٹے تو کہیں دعوتوں کے دوران ہلے گلے کا پروگرام ہے۔کل کے میزبان آج کے بنیں گے مہمان، گھروں میں لذیذ پکوان بنیں گے، مزے مزے کی ڈشوں سے مہمانوں کی تواضع ہوگی۔عیدالفطر کے پہلے روز بھی بچوں نے خوب سیر سپاٹے کئے، آج بھی موج مستی کریں گے، پارکوں میں بھی جھولوں سے لطف اندوز ہوں گے۔عید ہے تو دوستوں کے ساتھ پارٹی تو بنتی ہے، نوجوان مل جل کر فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کا رخ کریں گے اور گپ شپ لڑا کر من ہلکا کریں گے، شام کو سینما گھروں کا ٹائم سیٹ بھی کر لیا ہے۔خواتین کا بھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ گھومنے کا پروگرام ہے، بڑے بزرگ بھی اپنی منڈلیاں لگائے بیٹھے ہیں اور اپنی دلچسپیوں میں مگن ہیں۔دوسری جانب لاہور میں عید کے دوسرے روز شہریوں نے ناشتے کے لئے دکانوں کا رخ کر لیا، کوئی فیملی کو ساتھ لایا تو کوئی دوستوں کے ہمراہ آیا، مزیدار بونگ پائے، چنے کوفتہ اور حلوہ پوری سے لطف اندوز ہوتے شہری کہتے ہیں تہوار کا مزہ تو اب آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔