منگلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول سے 31 فٹ اوپر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, April 2025 GMT
ویب ڈیسک : واپڈا کے مطابق منگلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول سے 31 فٹ اوپر ایک ہزار 81 فٹ پر آ گئی اور قابل استعمال ذخیرہ ایک لاکھ 74 ہزار ایکڑ فٹ ہوگیا۔
چشمہ بیراج میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول سے چھ فٹ اوپر 638 فٹ تک پہنچ گئی اور یہاں پانی کا قابل استعمال ذخیرہ ایک لاکھ 38 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔
تربیلا ڈیم میں پانی ڈید لیول سے آٹھ فٹ اوپر ایک ہزار 410 فٹ کی سطح پر آ گیا ہے۔
کرشمہ کیور کو لولو اور کرینہ کو بیبو کیوں کہتے ہیں؛ لولو نے خوبصورت وجہ خود بتادی
تربیلا ڈیم میں پانی کا قابل استعمال ذخیرہ 86 ہزار ایکڑ فٹ ہوگیا اور ملک میں قابل استعمال پانی کا کل ذخیرہ 3 لاکھ 98 ہزار ایکڑ فٹ تک ہوگیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: قابل استعمال ڈیم میں پانی لیول سے کی سطح
پڑھیں:
پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
ویب ڈیسک: پی ٹی اے نے ملک بھر کے موبائل فون صارفین کے لیے ایک اہم اور تنبیہی پیغام جاری کیا ہے جس میں اپنی نام پر رجسٹرڈ سمز کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے خبردار کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ اپنی شناخت پر جاری شدہ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قانوناً جرم ہے کیونکہ آپ کے نام پر موجود سم کسی بھی غیر قانونی یا مجرمانہ کارروائی میں استعمال ہو سکتی ہے۔
صارفین کی سہولت اور حفاظت کے لیے پی ٹی اے نے ہدایت کی ہے کہ شہری یہ چیک کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں فعال ہیں،اس معلومات کیلئے صارفین cnic.sims.pk ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں یا اپنا شناختی کارڈ نمبر بغیر کسی ڈیش (-) کے 668 پر ایس ایم ایس کر کے تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اگر شناختی کارڈ پر کوئی نامعلوم یا بلا ضرورت سم نظر آئے تو اسے فوری طور پر بلاک کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محفوظ خریداری اور بائیو میٹرک کا احتیاطی استعمال
پی ٹی اے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نئی سم کی خریداری کے لیے ہمیشہ صرف مستند فرنچائز یا آفیشل کسٹمر سروس سینٹر کا ہی انتخاب کریں اور اس بات کی مکمل تصدیق کریں کہ آپ کی اجازت یا علم کے بغیر کوئی بھی سم رجسٹر نہ کی جا رہی ہو۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اس سے قبل بھی پی ٹی اے کی جانب سے شہریوں کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ مفت سم کا لالچ دے کر بائیو میٹرک تصدیق کروانے والے افراد سے ہوشیار رہیں۔
ایسے دھوکے باز آپ کی بائیو میٹرک کا غلط استعمال کر کے آپ کی معلومات پر کوئی اور سم بھی جاری کروا سکتے ہیں، جس کا خمیازہ بعد میں اصل صارف کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔