ریاست مدھیہ پردیش کے وزیراعلٰی موہن یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت کیطرف سے نشے سے نجات کیطرف ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے 19 شہروں میں آج یعنی یکم اپریل سے شراب پر مکمل پابندی نافذ کردی گئی ہے۔ ریاست کے وزیراعلٰی موہن یادو کے مطابق حکومت کا یہ فیصلہ نشے سے نجات کی طرف ایک تاریخی قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج  مدھیہ پردیش کے 19 مقامات کے لئے ایک تاریخی دن ہے، آج یعنی یکم اپریل سے یہاں شراب پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ریاست کے 19 مذہبی قصبوں اور گرام پنچایتوں میں وزیراعلٰی موہن یادو کی طرف سے اعلان کردہ شراب پر پابندی آج سے ہی نافذ ہوگئی۔

ریاست کے وزیراعلٰی کے اس اعلان کو 24 جنوری کو منعقدہ کابینہ کی میٹنگ میں منظوری دی گئی۔ فیصلے کے مطابق اجین، اومکاریشور، مہیشور، منڈلیشور، اورچھا، میہر، چترکوٹ، دتیا، پننا، منڈلا، ملتانی، منڈسور اور امرکنٹک کی پوری شہری حدود میں اور گرام پنچایت کی حدود، کنڈ پور، برکھان پور میں شراب کی تمام دکانیں اور بار بند کر دئے گئے۔ ریاست کے ان 19 شہری اور دیہی علاقوں کو مکمل طور پر مقدس قرار دیتے ہوئے یکم اپریل سے مکمل امتناع نافذ کر دیا گیا ہے۔

ریاست مدھیہ پردیش کے وزیراعلٰی موہن یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے نشے سے نجات کی طرف ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا ہے۔ یہ قدم 19 شہری علاقوں اور عوامی عقیدے اور مذہبی عقیدت رکھنے والی گرام پنچایتوں میں موثر ہوگا۔ واضح رہے کہ جن مذہبی مقامات پر شراب پر پابندی کا فیصلہ لیا گیا ان میں ایک میونسپل کارپوریشن، چھ میونسپل کونسل اور چھ گرام پنچایتیں شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وزیراعل ی موہن یادو شراب پر پابندی کے وزیراعل ی ایک تاریخی ریاست کے کی طرف

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل