انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ پر فنڈز کی بارش کی طرح برسا دینے والے ایلون مسک نے ممکنہ طور پر امریکی صدر سے راہیں جدا کر رہے ہیں۔

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایلون مسک امریکی ادارے "ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی" (DOGE) کی سربراہی سے دستبردار ہونے سے متعلق اپنے رفقا کو آگاہ کردیا ہے۔

اخبار نے مزید دعویٰ کیا کہ ایلون مسک نے یہ فیصلہ اپنی ساری توجہ اپنے کاروبار پر مرکوز رکھنے کے لیے کیا ہے۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چند روز قبل اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ ایلون مسک اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔

تاہم ٹرمپ نے اس تاثر کو رد کردیا کہ وہ یا ان کی حکومت ایلون مسک کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔

اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ اپنی جارحانہ حکمت عملی اور وفاقی حکومت میں شدید کٹوتیوں کے باعث ایلون مسک ایک متنازع شخصیت بن چکے ہیں۔ 

ایلون مسک کے مستعفی ہونے کی خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا نے بزنس میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے۔ 

تاہم اب تک امریکی حکومت اور ایلون مسک نے DOGE سے دستبردار ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایلون مسک نے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل