علی امین گنڈاپور کا وزیراعظم کو پن بجلی منافع کے بقایاجات کی ادائیگی کیلئے خط
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
پشاور(بیورو رپورٹ) وزیر اعلی خیبر پی کے علی امین گنڈاپور نے وزیر اعظم شہباز شریف کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے صوبے کے پن بجلی کے خالص منافع کے بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 161(2) میں پن بجلی کے خالص منافع کا معاملہ واضح کیا گیا ہے۔ آئین کے مطابق پن بجلی گھروں سے حاصل ہونے والے منافع کی رقم متعلقہ صوبوں کو ملنا ہے، جبکہ اس کی شرح کا تعین مشترکہ مفادات کونسل نے کرنا ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل نے 1991 میں قاضی کمیٹی میتھاڈالوجی (کے سی ایم) کی منظوری دی تھی، جس کے تحت 1992 میں اس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے (خیبر پختونخوا) کو چھ ارب روپے کی پہلی ادائیگی ہوئی تھی۔ 1997 میں نیشنل فنانس کمیشن اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی کے سی ایم فارمولے کی توثیق کی۔ 2016 میں وفاقی حکومت نے اس معاملے سے متعلق ایک عبوری طریقہ کار متعارف کروایا، جسے مشترکہ مفادات کونسل نے بھی منظور کیا۔ اس کے تحت پن بجلی کے خالص منافع کی شرح 1.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مشترکہ مفادات کونسل نے پن بجلی کے خالص منافع خیبر پختونخوا کے سی ایم منافع کی کے لیے
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔