شمالی وزیرستان سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
— فائل فوٹو
شمالی وزیرستان سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔
اس حوالے سے ماڑی پیٹرولیم کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی تخمینے میں وزیرستان بلاک سے یومیہ 2 کروڑ مکعب فٹ گیس حاصل ہو سکے گی۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نئی دریافت سے یومیہ 122بیرل خام تیل حاصل ہوگا۔
ماری انرجیز لمیٹڈ نے شمالی وزیرستان سے تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل گزشتہ ماہ ماڑی انرجیز لمیٹڈ نے شمالی وزیرستان سے تیل اور گیس کی دریافت کا اعلان کیا تھا۔
گزشتہ ماہ ماڑی انرجیز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دریافت سے ابتدائی طور پر یومیہ 2 کروڑ 4 لاکھ مکعب فٹ گیس اور یومیہ 117 بیرل خام تیل حاصل ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شمالی وزیرستان سے تیل اور گیس گیس کے
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔