امریکا ٹیرف عائد کرے یا نہ کرے، پاکستان کو اپنی ایکسپورٹس بہتر کرنا ہوں گی: ملیحہ لودھی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )اقوام متحدہ میں تعینات سابق پاکستانی مندوب اور سفارتکار ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستانی مصنوعات پر ٹیکس تو ہمیشہ سے تھا، امریکی ٹیرف سے دنیا میں تجارتی جنگ شروع ہو جائے گی۔
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، چین اور ترکیہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو 9 اپریل سے نافذ العمل ہو گا۔
اس معاملے پر جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے کہا کہ امریکا میں پاکستانی مصنوعات پر ٹیکس تو ہمیشہ سے تھا، مزید ٹیرف بڑھنے سے پاکستانی مصنوعات امریکا میں مہنگی ہو جائیں گی۔ملیحہ لودھی کا کہنا تھاکہ امریکا ٹیرف عائد کرے یا نہیں، پاکستان کو اپنی ایکسپورٹس بہتر کرنا ہوں گی۔
سابق پاکستانی سفیر نے امریکا کی جانب سے ٹیرف کو گلوبل اکانومی کے لئے منفی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اضافی ٹیرف عائد کرنے سے دنیا میں تجارتی جنگ شروع ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھاکہ چین اور امریکا کے درمیان دنیا کا سب سے بڑا تجارتی تعلق ہے، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ٹیرف کے معاملے میں کہاں تک ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
پشاور میں مرغی اور سبزیوں کی قیمت میں بڑی کمی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستانی مصنوعات ملیحہ لودھی ٹیرف عائد
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
لاہور: اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے تحت پنجاب حکومت نے ایسے شہریوں کے لیے خوشخبری سنائی ہے جو اپنے گھروں کی مرمت، مضبوطی یا توسیع کرنا چاہتے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے اہل درخواست گزاروں کو 5 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ بغیر سود کے اپنے گھر کی ضروری تعمیراتی ضروریات پوری کر سکیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد کم اور متوسط آمدن رکھنے والے خاندانوں کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کرنا اور گھروں کی محفوظ تعمیر و مرمت میں مالی مدد دینا ہے۔
دو مختلف کیٹیگریز میں قرض فراہم کیا جائے گا
اس اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلی کیٹیگری ان افراد کے لیے مختص ہے جو اپنے موجودہ گھر کی چھت کی مرمت، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی یا ضروری تعمیراتی کام کروانا چاہتے ہیں۔ ایسے درخواست گزار 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض حاصل کر سکیں گے، جس کی واپسی 9 سال کے دوران آسان ماہانہ اقساط میں ہوگی۔ اس کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 4 ہزار 700 روپے ہوگی۔
دوسری کیٹیگری ان شہریوں کے لیے رکھی گئی ہے جو اپنے گھر میں توسیع، جیسے دوسری منزل یا اضافی کمروں کی تعمیر، کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دیا جائے گا، جسے بھی 9 سال میں واپس کرنا ہوگا۔ اس قرض کی متوقع ماہانہ قسط تقریباً 9 ہزار 300 روپے ہوگی۔
درخواست کیسے دیں؟
اپنی چھت محفوظ چھت پروگرام 2026 کے لیے درخواست دینے کے خواہشمند افراد پنجاب حکومت کے مخصوص آن لائن پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔ درخواست جمع کراتے وقت شناختی اور دیگر ضروری دستاویزات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
وہ افراد جو انٹرنیٹ کے ذریعے درخواست نہیں دے سکتے، ان کے لیے متبادل سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ایسے شہری اپنی درخواست متعلقہ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر یا پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے دفاتر میں جمع کرا سکتے ہیں۔
حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ درخواست جمع کرانے سے پہلے اپنی تمام معلومات اور دستاویزات مکمل کر لیں تاکہ درخواست کی جانچ کے عمل میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔