دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد کرینہ کو کیا پریشانی لاحق ہوگئی تھی؟ اداکارہ نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
معروف اداکارہ کرینہ کپور اپنے دوسرے بیٹے جہانگیر علی خان کی پیدائش کے بعد گھبراہٹ کا شکار ہوگئی تھیں۔
کرینہ کپور نے ایک انٹرویو میں دوسرے بیٹے کی پیدائش کے بعد ہونی والی پیچیدگیوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ میرا وزن 25 کلو بڑھ گیا تھا۔
کرینہ کپور نے مزید کہا کہ ویسے تو میں اپنی شکل و صورت اور جسمانی ہیئت پر ہمیشہ پُراعتماد رہی ہوں لیکن جہانگیر کی پیدائش پر بڑھنے والے وزن کے باعث گھبرا گئی تھی۔
اداکارہ نے بتایا کہ بچپن سے میں ہر وقت کچھ نہ کچھ کھانے کی عادت میں مبتلا رہی ہوں اور ہر وقت ہاتھ میں چپس کا پیکٹ رہا کرتا تھا۔
کرینہ کپور نے کہا کہ ظاہر ہے پھر وزن بھی بڑھنا تھا لیکن مجھے خود سے پیار ہے اس لیے یہ سب ٹھیک لگتا تھا۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ جب جہانگیر کی پیدائش کے بعد وزن بڑھا اور مجھے تب گھبراہٹ ہوئی تو خود سے کہا کہ میں اس میں بھی زبردست لگ رہی ہوں۔
اس موقع پر کرینہ کپور نے اپنی فلم "جب وی میٹ" کے ڈائیلاگ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میں ہمیشہ یہ اصول اپناتی ہوں کہ میں اپنی پسندیدہ ہوں۔
ادکارہ کرینی کپور نے خواتین کو مشورہ دیا کہ یہی وہ طریقہ ہے جس پر ہر عورت کو اپنی زندگی گزارنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرینہ کپور نے کی پیدائش کہا کہ کے بعد
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔