ملک کو بھٹو وژن کے مطابق خودمختار اور ترقی یافتہ بنائیں گے ،صدر مملکت
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
پاکستان کی خودمختاری اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے
صدر مملکت کا ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر تعزیتی پیغام، شاندار الفاظ میں خراج تحسین
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کو جاری رکھیں گے اور پاکستان کو اُن کے وژن کے مطابق ترقی یافتہ، خودمختار و عوام دوست ملک بنائیں گے ۔تفصیلات کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر پیغام میں کہا کہ پاکستان کے عظیم رہنما شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر ان کی خدمات، جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو ایک عظیم مدبر، جرات مند رہنما اور عوام کے حقیقی نمائندہ تھے ، جنہوں نے پاکستان کو ترقی، خودمختاری اور عوامی فلاح کے راستے پر گامزن کیا اور قوم کو پہلا متفقہ آئین دیا۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، ملک کی خارجہ پالیسی کو ایک آزاد اور خودمختار تشخص دیا جبکہ اُن کی قیادت میں پاکستان نے اسلامی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کی۔آصف زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے مسلم امہ کے اتحاد کی راہ ہموار کی، مزدوروں، کسانوں، اور پسے ہوئے طبقے کو حقوق دیے ، انہیں بااختیار بنایا، اُن کے اقدامات کی بدولت تعلیم، صنعت، اور دفاعی شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔صدر مملکت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ‘ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کو جاری رکھیں گے ، پاکستان کی خودمختاری، جمہوریت، اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے جبکہ بھٹو کے وژن کے مطابق ملک کو ترقی یافتہ، خود مختار اور عوام دوست ملک بنائیں گے ‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: شہید ذوالفقار علی بھٹو صدر مملکت کے مطابق نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو دہشت گردوں کو وسائل مہیا کررہا ہے۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کا کردار واضح ہے جو دہشت گردوں کو وسائل فراہم کررہا ہے، افغان عبوری حکومت دہشت گردی کو روکنے میں بالکل ناکام ہے، افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے،ہم نے افغانستان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول کرے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں صرف عوام قربانیاں نہیں دے رہے بلکہ اس میں ہماری لا اینڈ انفورسمنٹ ایجنسیز شامل ہیں، اس میں ہماری افواج پاکستان کے کڑیل جوان اور افسران شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں اب تک ہمارے 90 ہزار پاکستانی شہید ہوچکے ہیں اس جنگ کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو انہیں وسائل بھی مہیا کررہا ہے اور اس میں دیگر فیکٹرز بھی ملوث ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، بہادر بلوچوں اور پختونوں نے پاکستان کے قیام میں بڑا کردار ادا کیا، ترقی کے دوڑ میں جب تک چاروں صوبے مساویانہ طور پر شریک نہیں ہوں گے پاکستان ترقی نہیں کرسکے گا اور میں یہ بات دل کی اتھاہ گہرائیوں سے قبول کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ بلوچستان کی ترقی میں وفاقی حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں پر حملے کی مذمت
دریں اثنا وزیرِاعظم نے کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ وزیرِ اعظم نے واقعے میں سب انسپکٹر سجاد الاسلام اور کسٹم کانسٹیبل جواد کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا، شہدا کے اہل خانہ کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
وزیرِ اعظم نے متعلقہ اہلکاروں کو ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں قرار واقعہ سزا دلوانے کی ہدایت کی اور کہا کہ دہشت گردوں کے عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، شرپسند عناصر کو کسی صورت ملک کا امن تباہ کرنے نہیں دیں گے۔