چاہتے ہیں لوگ سولر نیٹ میٹرنگ لگائیں تو تین، 4 سال میں پیسے پورے ہوں اور لگوانے والے بھی خوش ہوں، سردار اویس خان لغاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان میں جتنے بھِی سولر سسٹم لگے ہیں ان میں صرف 5 سے 8 فیصد لوگوں نے نیٹ میٹرنگ کروائی ہے۔ وفاقی کابینہ نے نیٹ میٹرنگ پالیسی کو ری ویو کرنے کا کہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں جب لوگ سولر نیٹ میٹرنگ لگائیں تو تین، 4 سال میں پیسے بھی پورے ہوں اور لگوانے والے بھی خوش ہوں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے بعد ایک کروڑ 80 لاکھ خاندانوں کے بل میں 60 فیصد کمی آئے گی۔ ایک سو یونٹ استعمال کرنے والوں کو پہلے ہی ساڑھے 4 روپے یونٹ مل رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بجلی نرخ میں کمی کے بعد اب گھریلو، کمرشل اور انڈسٹریل صارفین کے بلز کس شرح سے آئیں گے؟
سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ اعلان کے بعد 70 لاکھ ایسے لوگ ہیں جن کو 7 سے 8 روپے فی یونٹ بجلی ملے گی جبکہ سوا کروڑ ایسے صارفین ہیں جنہیں 11 روپے فی یونٹ بجلی ملے گی۔ جتنا استعمال ہوگا اتنا فی یونٹ بل آئے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تاریخی 7.
مزید پڑھیں: بجلی کی قیمتوں میں کمی کا خیر مقدم، ’حق دو عوام کو‘ تحریک آگے بڑھائیں گے، حافظ نعیم
سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ ہم بجلی کے تقسیم کار سسٹم میں مزید بہتری لا کر بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ اس وقت ملک کے 2 کروڑ صارفین کو بجلی کی پیداواری قیمت کا بھی 70 فیصد ڈسکاؤنٹ مل رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان 2 کروڑ صارفین کو 11.50 روپے سے بھی کم فی یونٹس بجلی ملنے لگی ہے۔ ان شااللہ عنقریب ہمارے ان اقدامات کی وجہ سے صنعتوں کا پہہہ پوری قوت کے ساتھ چلنا شروع ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بجلی سردار اویس احمد خان لغاری سولر سسٹم نیٹ میٹرنگ پالیسی وفاقی وزیر توانائی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بجلی سردار اویس احمد خان لغاری سولر سسٹم نیٹ میٹرنگ پالیسی وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نیٹ میٹرنگ فی یونٹ بجلی کی
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔