Express News:
2026-06-03@01:44:15 GMT

5.17 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ سے چینی، چاول  اور گوشت مہنگا

اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT

اسلام آباد:

پچھلے 8 ماہ میں 5.17 ارب ڈالر (1451 ارب روپے) کی پاکستانی غذائیں باہر بھجوائی گئیں جن میں چاول، چینی اور گوشت سرفہرست ہیں اور یوں زرمبادلہ تو حاصل ہوا مگر منفی پہلو یہ کہ ان غذاؤں کی قیمت مقامی مارکیٹ میں بڑھ گئی۔

ادارہ شماریات پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق پچھلے ساڑھے تین سال میں باسمتی چاول فی کلو 150 روپے سے بڑھ کر 400 روپے ہو چکا ہے  بڑا گوشت 700 روپے کلوملتا تھا، اب 1400 روپے میں مل رہاہے اور اسی طرح چینی کی قیمت 136 روپے سے بڑھ کر 180روپے ہو گئی ہے۔

 پچھلے آٹھ ماہ میں آلو، پیاز، ٹماٹر سمیت اکثر سبزیوں کی ایکسپورٹ کم ہوئی، اسی لیے مقامی مارکیٹ میں ان کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں اور عام آدمی کو فائدہ ہوا۔

حکومت کوئی غذا حد سے زیادہ باہر نہ جانے دے کہ پھر اس کی قیمت آسمان پر پہنچنے سے عام آدمی ہی کو مہنگائی کی مار پڑتی ہے،کہتے ہیں، پہلے اپنے لوگوں کی فکر کرو، بعد میں دوسروں کی !

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟