اسکول میں ماہواری چیک کرنے کے لیے طالبات کو برہنہ کرنے کا واقعہ؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 10 جولائی 2025ء) بھارتی ریاست مہاراشٹر میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک اسکول کے واش روم میں خون کے دھبے پائے جانے کے بعد اساتذہ نے پانچویں سے دسویں کلاس کی طالبات کی ماہواری چیک کرنے کے لیے انہیں مبینہ طور پر کپڑے اتارنے پر مجبور کیا۔ اس واقعے سے والدین میں غم و غصہ پھیل گیا۔
بھارتی کشمیر میں بھی طالبات کے حجاب پہننے پر تنازعہ
ممبئی کے مضافاتی علاقے تھانے کی دیہی پولیس کے اہلکاروں کے مطابق والدین کے احتجاج کے بعد اسکول اور اس کی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی گئی۔
اس الزام میں اسکول کی پرنسپل اور ایک معاون کو گرفتار کیا گیا جبکہ اسکول کے بعض اساتذہ سمیت دس افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔(جاری ہے)
بھارتی مسلم طالبات نے حجاب پہن کر امتحان دینے کی اجازت طلب کرلی
ایک سینیئر پولیس افسر نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد کو جمعرات کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ پولیس کے مطابق تمام ملزمان کے خلاف بچوں کے جنسی جرائم کے تحفظ سے متعلق سخت قانون پوسکو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اصل معاملہ کیا ہے؟پولیس کا کہنا ہے کہ اسکول کے عملے کو واش روم میں خون کے دھبے ملے تھے، جس کی اطلاع اساتذہ اور پرنسپل کو دی گئی اور یہ جاننے کے لیے کہ ذمہ دار کون ہے، طالبات کر برہنہ ہونے پر مجبور کیا گیا۔
مقامی پولیس نے بتایا کہ پانچویں سے دسویں جماعت میں پڑھنے والی لڑکیوں کو اسکول کے کنونشن ہال میں بلایا گیا، جہاں پروجیکٹر کے ذریعے انھیں بیت الخلاء اور ٹائلوں پر خون کے دھبے کی تصاویر دکھائی گئیں۔
اس کے بعد پرنسپل نے طالبات کو دو گروہوں، جو ماہواری سے تھیں اور جو نہیں، میں الگ ہونے کا حکم دیا۔ ایک خاتون چپراسی سے کچھ لڑکیوں کو چیک کرنے کو کہا گیا، جن کی عمریں 10 سے 12 سال کے درمیان کی تھیں، جن کا کہنا تھا کہ انہیں ماہواری نہیں آ رہی ہے۔
ماہواری کی ’شرم‘، لاکھوں بھارتی لڑکیاں اسکول جانے سے قاصر
پولیس کے مطابق ماہواری چیک کرنے کے لیے بعض طالبات کو واش روم لے جایا گیا جہاں اٹینڈنٹ نے لڑکیوں کو برہنہ کر کے ان کی تلاشی لی۔
شکایت کنندہ والدین میں سے ایک کی بیٹی سے ملزم پرنسپل نے پوچھا کہ جب اسے ماہواری نہیں آ رہی ہے، تو وہ سینیٹری پیڈ کیوں استعمال کر رہی تھیں۔ پولیس نے بتایا کہ اس کے بعد پرنسپل نے نابالغ لڑکی پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا اور زبردستی اس کے انگوٹھے کا نشان بھی لیا۔
بھارت میں حجاب سے متعلق عدالتی فیصلہ، مسلمانوں کی احتجاجی ہڑتال
لڑکیاں روتی ہوئی گھر گئیں اور اپنے والدین کو اسکول میں اپنے تجربے کے بارے میں بتایا، جس کے خلاف والدین نے احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ اور اساتذہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پولیس نے بتایا کہ والدین میں سے ایک نے اسکول کی پرنسپل، چار اساتذہ، اٹینڈنٹ اور دو ٹرسٹیوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا، جس کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس گواہوں کی شناخت کر رہی ہے اور طالبات سے مزید شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔
ادارت: جاوید اختر
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسکول کے چیک کرنے بتایا کہ کے خلاف کیا گیا رہی ہے کے لیے کے بعد
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔