لاہور:

ڈی جی خان میں محکمہ وائلڈ لائف نے 110 زندہ بٹیر اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔

یہ کارروائی ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر ڈی جی خان کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی، بازیاب کیے گئے بٹیر 7 لکڑی کے کریٹس میں غیر قانونی طور پر منتقل کیے جا رہے تھے۔

محکمہ وائلڈ لائف کی بروقت کارروائی سے اسمگلرز کے خواب چکنا چور ہو گئے۔ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے جبکہ تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بٹیر اسمگلنگ کو ناکام بنا کر جنگلی پرندوں کے تحفظ میں ایک اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگلی حیات پر حملہ دراصل قدرتی توازن پر حملہ ہے اور ایسے عناصر کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر قیادت جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد جاری ہے۔ وائلڈ لائف ٹیمیں کرین اور بٹیر سمیت دیگر قیمتی پرندوں کے تحفظ کے لیے مختلف ہاٹ اسپاٹس پر مسلسل گشت کر رہی ہیں۔

محکمہ وائلڈ لائف نے عوامی سطح پر آگاہی مہمات کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور دیہات میں خصوصی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ نوجوان نسل میں جنگلی حیات کی اہمیت اجاگر کی جا سکے۔ تربیتی پروگرامز کے ذریعے قدرتی ورثے کے تحفظ کا شعور بیدار کیا جا رہا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: محکمہ وائلڈ لائف کے تحفظ

پڑھیں:

جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری

جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقے

نشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق

اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگ

اسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔

دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیل

محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا

ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے

متعلقہ مضامین

  • وزیر تعلیم پنجاب کا سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس
  • مختلف علاقوں میں بارشیں ہی بارشیں؛محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی