پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز قبضہ مافیا سے چھڑوانے کیلئے آپریشن کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
ذرائع کے مطابق طلباء تنظیموں سے کمرے خالی کرانے کیلئے پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ نے مشترکہ آپریشن کی تیاری کرلی ہے۔ کارروائی کے باعث پنجاب یونیورسٹی کے 28 ہاسٹلز 8 اپریل منگل تک بند رہیں گے۔ ہاسٹلز 9 اپریل کو کلاسز اور امتحانات کیساتھ طلباء کیلئے کھول دیئے جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب یونیورسٹی ہاسٹلز میں کلین اپ آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق طلباء تنظیموں سے کمرے خالی کرانے کیلئے پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ نے مشترکہ آپریشن کی تیاری کرلی ہے۔ کارروائی کے باعث پنجاب یونیورسٹی کے 28 ہاسٹلز 8 اپریل منگل تک بند رہیں گے۔ ہاسٹلز 9 اپریل کو کلاسز اور امتحانات کیساتھ طلباء کیلئے کھول دیئے جائیں گے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام طلباء کیلئےانتباہ جاری کر دیا ہے۔ ہاسٹلز میں 8 ہزار طلباء کی گنجائش ہے لیکن نئے الاٹیز کمروں سے محروم ہیں۔ مختلف ہاسٹلز پر طلباء تنظیموں نے دہائیوں سے قبضہ کر رکھا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یونیورسٹی کے تمام ہوسٹلز 8 اپریل2025 کی صبح 7 بجے تک بند رہیں گے، کلاسز و امتحانات 9 اپریل سے شروع ہو رہے ہیں جس کیساتھ ہی ہاسٹل بھی کھول دیئے جائیں گے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہاسٹلز کے رہائشی طلباء اس وقت اور تاریخ سے قبل ہاسٹل واپس نہ آئیں۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ طلباء ہدایت پر سنجیدگی سے عمل کریں اور مکمل تعاون کریں۔ ذرائع کے مطابق وائس چانسلر نے پنجاب حکومت سے اپیل کی تھی کہ ہاسٹلز پر طلبہ تنظیموں کا قبضہ ہے، جس یونیورسٹی انتظامیہ تنہا نہیں چھڑوا سکتی، اس کیلئے پولیس فورس فراہم کی جائے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے اس حوالے سے پولیس کی نفری فراہم کر دی ہے جو قبضہ چھڑوائے جانے کے بعد بھی ایک ہفتے تک ہاسٹلز پر تعینات رہے گی، تاکہ دوبارہ قبضے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یونیورسٹی انتظامیہ پنجاب یونیورسٹی ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے انتظامیہ نے طلباء کی
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔