ایسی پالیسیاں لانا چاہتے ہیں، جن سے لوگوں کے صحت کے مسائل کم ہوں، مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ آنے والے دنوں میں انقلابی اقدامات کریں گے، تاہم پاکستان میں وہ وقت کبھی نہیں آئے گا، کہ ہم ہر بیمار شہری کو صحت کی سہولت فراہم کرسکیں، تاہم ہم نے ایسے نظام کی ابتدا کردی ہے، جس کے ذریعے ہر شہری کو علاج کی سہولت دستیاب ہوسکے گی۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزارت صحت سب سے خطرناک وزارت ہے، یہاں براہ راست انسانوں سے ڈیلنگ ہے، غلطی کی گنجائش ہے، دوسری وزارتوں کی طرح نہیں کہ کوئی غلطی ہوئی تو درست کرلی گئی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کوئی انسان دکھ یا بیماری میں مبتلا ہوتا ہے، تو وہ ہسپتالوں میں جاتا ہے، یہ وزارت چند دنوں کی ہے، مجھے اللہ نے اگر یہاں مخلوق کی خدمت کے لیے رکھا ہے تو میں اپنا کام کروں گا، دستیاب وسائل کو برائے کار لاکر عوام کی تکلیف کم کرنے کی کوشش کریں گے تو میں سمجھوں گا، ہم کامیاب ہوگئے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ چند روز کی وزارت کے لیے میں آخرت خراب کرنے کو تیار نہیں ہوں، اسلام آباد کے علاوہ ہمارے پاس براہ راست ہسپتال نہیں ہیں، ہمارے یہاں جو ریگولیشنز ہیں، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی)، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور نرسنگ کونسل کا نظام ہے، ہم ایسی پالیسیاں لانا چاہتے ہیں، جن کے اثرات نیچے تک جاسکیں، اور لوگوں کے صحت کے مسائل کم ہوں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آنے والے دنوں میں آپ کو مثبت تبدیلیاں دکھائی دیں گی، چیزیں بہتر ہوتی ہوئی نظر آئیں گی، سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی صورت حال کو بہتر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے، 70 فیصد ایسے لوگ ہسپتالوں میں جاتے ہیں، جنہیں ہسپتال جانے کی ضرورت ہی نہیں، یہ اس وجہ سے ہے کہ ہمارے پاس بیسک ہیلتھ یونٹ کی سہولتیں ہی نہیں، دنیا بھر میں ہسپتالوں میں وہ مریض جاتے ہیں، جنہیں بیسک ہیلتھ یونٹس کی جانب سے ہسپتال ریفر کیا جاتا ہے، چھوٹے مسائل تو ٹیلی میڈیسن کی سطح پر حل کیے جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آنے والے دنوں میں انقلابی اقدامات کریں گے، تاہم پاکستان میں وہ وقت کبھی نہیں آئے گا، کہ ہم ہر بیمار شہری کو صحت کی سہولت فراہم کرسکیں، تاہم ہم نے ایسے نظام کی ابتدا کردی ہے، جس کے ذریعے ہر شہری کو علاج کی سہولت دستیاب ہوسکے گی۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ کراچی میں بجلی کی ایک کمپنی کو اجارہ داری دی گئی ہے، دنیا بھر میں لوگوں کے پاس مختلف کمپنیوں سے بجلی خریدنے کا آپشن ہوتا ہے، کراچی میں ایک ہی بجلی کمپنی کی اجارہ داری کا نظام ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے رہائشی پلاٹس کو کمرشل میں تبدیل کرنے کی مخالفت کرتے ہیں، نئی قانون سازی سے شہر تباہ ہوجائے گا، تمام غیرقانونی تعمیرات قانونی ہوجائیں گی، کراچی سے معمولی سے ہمدردی رکھنے والی انتظامیہ بھی ایسا نہیں کرسکتی، آج کراچی بدترین شہروں میں شامل ہوگیا ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے بجلی کی قیمت میں کمی کے فیصلے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکومت عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے مشکل فیصلے بھی کرسکتی ہے، یہ بہت بڑا ریلیف ہے، جو آج کے اس مہنگائی کے دور میں عوام کو دیا گیا ہے، ابھی کوئی آئیڈیل سچویشن نہیں ہوگئی ہے، لیکن یہ بھی بہت بڑا کام ہے، جو عوام کے لیے شہباز شریف نے کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر صحت کمال نے کہا کہ ہسپتالوں میں کراچی میں کی سہولت شہری کو کے لیے
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔