کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر حاملہ خاتون کا قتل معمہ بن گیا، شوہر زیر حراست
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں تھانہ سائٹ سپر ہائی وے صنعتی ایریا کے علاقے فقیرا گوٹھ میں ڈکیتی مزاحمت پر حاملہ خاتون کا قتل معمہ بن گیا، پولیس نے تفتیش کے دوران شک کی بنیاد پر شوہر کو حراست میں لے لیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس نے فقیرا گوٹھ پریشان چوک کے قریب گزشتہ روز ڈکیتی کی واردات میں حاملہ خاتون کی ہلاکت کا مقدمہ نمبر 467 سال 2025 بجرم دفعہ 397 کے تحت مقتولہ کے شوہر عرفان کی مدعیت میں درج کر کے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا۔
ترجمان ڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جمعے کی دوپہر فقیرا گوٹھ پریشان چوک پر مبینہ ڈکیتی مزاحمت میں حاملہ عورت کی ہلاکت کے دلسوز واقعہ کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ابتدائی طور پہ شوہر نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کو کہیں جاتے ہوئے ڈکیتی کا نشانہ بنایا گیا جس میں ملزمان نے فائرنگ کی اور حاملہ بیوی جاں بحق ہوگئی تاہم پولیس نے جائے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور تو شک سامنے آیا کہ واقعے کے محرکات مختلف ہو سکتے ہیں۔
پولیس نے واردات کا ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کی دفعہ کے تحت درج کرلیا اور اس حوالے سے تفتیش جاری رکھی۔ ترجمان کے مطابق تفتیش کے دوران مزید شواہد جمع کیے گئے جس سے واضح ہوا کہ معاملہ ڈکیتی مزاحمت کا نہیں تھا جبکہ مقتولہ کے شوہر کی جانب سے جو جائے وقوعہ بتایا گیا وہ درست نہیں اور ہلاکت کا مقام کہیں اور ہے۔
پولیس نے اس معاملے میں شوہر کے کردار کو مشکوک جانتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا گیا جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ خاتون کی ہلاکت گھر میں ہی ہوئی تھی جس کو ڈکیتی مزاحمت کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی جبکہ ہلاکت میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی پولیس نے قبضے میں لے لیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق ہلاکت میں استعمال ہوا اسلحہ اور پولیس تحویل میں لیے گئے شوہر کو مزید کارروائی کے لیے شعبہ تفتیش ضلع شرقی کے حوالے کیا گیا۔
پولیس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ واقعے کے محرکات اور دیگر پہلوؤں کے بارے میں مزید شواہد اکٹھا کرکے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈکیتی مزاحمت پولیس نے کے مطابق
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔