عاقب جاوید پر الزامات لگانے والے گلیسپی پاکستان ٹیم کی کوچنگ سے متعلق پھر بول پڑے
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر جیسن گلیسپی پاکستان ٹیم کی کوچنگ کے حوالے سے پھر بول پڑے۔ایک حالیہ انٹرویو میں جیسن گلیسپی نے کہا کہ پاکستان کا تجربہ میری کوچنگ سے محبت کو کھٹا کر چکا ہے، میں ایمانداری سے کہوں گا کہ مجھے یقین ہے کہ میں اسے واپس حاصل کر لوں گا۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑا دھچکا تھا، مجھے مایوسی ہوئی کہ یہ سب کیسے ختم ہوا، اس تجربے سے میرے ذہن میں سوال آیا میں دوبارہ مکمل وقت کے لیے کوچنگ کرنا چاہتا ہوں یا نہیں، میں یہ سب سچے دل سے کہوں گا کہ مجھے کوچنگ کے تجربے نے تھکا دیا ہے۔دوران انٹرویو جیسن گلیسپی کا کہنا تھا آسٹریلیا بھی اگر کوچنگ کی پیشکش کرتا تو میں جواب دیتا کہ ابھی نہیں، میری اس وقت کل وقتی کوچنگ میں دلچسپی نہیں ہے۔واضح رہے کہ جیسن گلیسپی پاکستان ریڈ بال ٹیم کے مختصر وقت کے لیے کوچ رہے،گیری کرسٹن کے عہدہ چھوڑنے کے بعد جیسن گلیسپی عبوری وائٹ بال کوچ بھی بنے۔ جیسن گلیسپی بھی کوچنگ سے الگ ہوئے تو عاقب جاوید عبوری ہیڈ کوچ بن گئے۔خیال رہے کہ جیسن گلیسپی نے ایک انٹرویو میں الزام لگایا تھا کہ عاقب جاوید کوچ نے بننے کی مہم چلائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جیسن گلیسپی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔