UrduPoint:
2026-06-02@22:52:20 GMT
معیشت کی بہتری میں آرمی چیف کا بھرپور کردار ہے، مزید خوشخبریاں آئیں گی، وزیراطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 اپریل 2025ء ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ جب ملک سنبھالا تو بہت سے چیلنجز درپیش تھے، مشکل وقت میں وزیراعظم نے سیاست نہیں ریاست کا نعرہ لگایا، ہم نے ریاستی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے سیاسی نقصان کو بالائے طاق رکھا، وزیراعظم نے بجلی سستی کرنے کا وعدہ پورا کر دکھایا، عوام کو ریلیف کے لئے نعروں کی بجائے عملی اقدامات کر رہے ہیں، ٹیم ورک کی بدولت کامیابیوں کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے۔
این اے 127 لاہور میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے لوگوں کے درمیان موجود ہوں، عوام ہی ہماری طاقت ہیں، عوامی حمایت سے ہی ہم آج مشکل اور اچھے فیصلے کرنے کے قابل ہوئے ہیں، آپ لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ آپ کے درمیان رہوں گا، ہم آپ کے درمیان موجود ہیں، جب نیت اچھی ہو اور محنت کریں تو خدا مدد کرتا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے جب اس ملک کی باگ ڈور سنبھالی تو حالات اچھے نہیں تھے، بہت سے چیلنجز درپیش تھے، لوگ کہتے تھے کہ ملک ڈیفالٹ کر جائے گا، مہنگائی اور غربت بڑھ جائے گی، حالات بد سے بدترین ہو جائیں گے۔(جاری ہے)
ن لیگی رہنماء کا کہنا ہے کہ دشمن اس طاق میں تھا کہ کیسے اور کب یہ ملک ڈیفالٹ ہو، سیاسی طور پر بھی لوگوں نے اس موقع پر اپنے ریاست کی بجائے اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دی، عوام جانتے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام رکوانے کے لئے خط لکھے گئے مگر وزیراعظم شہباز شریف نے مشکل وقت میں سیاست نہیں ریاست کا نعرہ لگایا، یہ ریاست پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان سے ہی ہمارا وجود اور عہدے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد محمد نواز شریف کی قیادت میں وزیراعظم نے ملک کی خدمت کا بیڑا اٹھایا کہ اس ملک کی خدمت کرنی ہے اور مشکل حالات میں ہمت نہیں ہارنی، عوام کے حقوق کے لئے وزیراعظم نے شبانہ روز محنت کی، جب لوگ ناامیدی کو اپنا شعار بنا چکے تھے وہ تب بھی کہتے تھا کہ امید ہے محنت کریں گے ، جان لڑائیں گے اس پاکستان کو عظیم بنائیں گے، وزیراعظم نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کا وعدہ کیا تھا آج پورا کیا ہے، بجلی سات روپے 41 پیسے سستی کی ہے، یہ معمولی بات نہیں ہے، عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لئے سخت محنت کی بدولت کامیابی ملی ہے، یہ سب عوام کا درد رکھنے سے ہوتا ہے، کھوکھلے نعرے لگانے سے نہیں ہوتا۔ عطاء اللہ تارڑ کہتے ہیں کہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی میدان میں کارکردگی کی تعریف کر رہے ہیں، مہنگائی کم ترین سطح پر آگئی ہے، سٹاک مارکیٹ اوپر جارہی ہے، بجلی بھی سستی ہوئی ہے اور تمام اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ پاکستان اڑان بھر چکا ہے، اڑان پاکستان کے تحت وطن عزیز معاشی ترقی کی بلندیوں کو چھوئے گا، صنعتی صارفین کے لئے بھی 7 روپے 69 پیسے فی یونٹ بجلی سستی کی گئی ہے، سستی بجلی سے معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، ایکسپورٹس میں اضافہ ہوگا، ہماری صنعتیں بڑھیں گی تو نوکریاں ملیں گی، شرح سود بھی نیچے جاچکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے الیکشن میں وعدہ کیا تھا مہنگائی کو سنگل ڈیجٹ میں لے کر آئیں گے، 2024ء میں ہی وہ سنگل ڈیجٹ پر آگئی اور آج کم ترین سطح پر ہے، آج عوام تک ریلیف پہنچ چکا ہے، عوام کی خدمت ہماری سیاست کا محور اور فرض ہے، ہم سب مل جل کر ملک کو عظیم تر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے، یہ ٹیم ورک ہے، پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کا بھی اس میں بھرپور کردار ہے، آرمی چیف کی قیادت میں پاک فوج کا قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام میں بھی اہم کردار ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں آئیں گی، جب پانچ سال مکمل ہونے کے بعد آپ کے پاس اپنی کارکردگی کی بناء پر ووٹ مانگنے آئیں گے تو آپ گھروں سے باہر نکل کر خود کہیں گے کہ آپ کی حکومت نے جو کر دکھایا ہے ہم آپ کے ساتھ چلیں گے، ملک کو عظیم بنانے کے لئے مل کر آگے بڑھتے رہیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لئے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔