عمران خان کیلئے ریلیف حاصل کرنے کی درپردہ کوششیں، امریکی پاکستانیوں کے وفد کی بانی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات:ذرائع کا دعوی
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
عمران خان کیلئے ریلیف حاصل کرنے کی درپردہ کوششیں، امریکی پاکستانیوں کے وفد کی بانی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات:ذرائع کا دعوی WhatsAppFacebookTwitter 0 6 April, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(آئی پی ایس )امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں اور تاجروں کے ایک گروپ نے اسلام آباد میں ایک سینیئر عہدیدار اور پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی ہے۔یہ روابط پی ٹی آئی اور اس کے ہمدردوں کی عمران خان کیلئے کچھ ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ بیک چینل کی یہ کوششیں ان پس پردہ مذاکرات سے الگ ہیں جو پی ٹی آئی اور متعلقہ حلقوں کے درمیان ہوئی تھیں۔ اگرچہ توقع ہے کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بیک چینل مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں لیکن تاحال کسی کوشش میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
انگلش روزنامے کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے کچھ رہنما جو ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کرتے رہے ہیں، بیک چینل مذاکرات کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ مسلسل اس بات پر اصرار کرتی رہی ہے کہ وہ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں سے بات نہیں کرے گی اور یہ سیاسی جماعتوں کا کام ہے کہ وہ آپس میں سیاست اور اس سے جڑے امور پر بات چیت کریں تاہم پی ٹی آئی کے کچھ رہنماں نے بیک چینل مذاکرات کے حوالے سے بات کی ہے۔
امریکا میں مقیم ڈاکٹروں اور تاجروں کی ایک اہم عہدیدار اور عمران خان کے ساتھ بات چیت سے آگاہ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ایسی کوششوں کی کامیابی کا انحصار پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اور عمران خان کے رویے پر ہے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اور پارٹی کے غیر ملکی چیپٹرز بالخصوص پی ٹی آئی کا امریکا اور برطانیہ کا چیپٹر فوج اور اس کی اعلی کمان کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ پارٹی کے سوشل میڈیا پر فوج اور اس کی کمان کیخلاف یکے بعد دیگرے مہمات چلائی گئیں۔ جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جبکہ عمران خان کی رہائی کیلئے اسلام آباد اور جی ایچ کیو پر دبا ڈالنے کی خاطر واشنگٹن اور لندن سمیت بااثر عالمی دارالحکومتوں سے رابطے کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ