کراچی سمیت سندھ میں خسرہ کے کیسز میں خطرناک اضافہ، 57 اموات اور 4,200 متاثر
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
ماہرین صحت نے حالیہ دنوں میں خصوصاً کراچی میں خسرہ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس انتہائی متعدی اور جان لیوا وائرس سے بچاؤ کے لیے لازمی طور پر ویکسین لگوائیں۔
خسرہ کے باعث رواں سال اب تک کم از کم 57 بچے جاں بحق اور 4,200 سے زائد متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں 73 وبائی مراکز کی نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پولیو ویکسینیشن کے لیے قانون سازی، عالمی ادارہ صحت کیوں مخالفت کر رہا ہے؟
یہ بات ماہرین نے منگل کے روز ایک میڈیا بریفنگ میں کہی، جو ڈائریکٹوریٹ آف ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن نے یونیسف کے تعاون سے آئندہ خسرہ، روبیلا اور پولیو ویکسینیشن مہم کے حوالے سے منعقد کی گئی تھی۔
یہ 12 روزہ مہم 19 نومبر سے شروع ہوگی، جس کے دوران 82 لاکھ بچوں کو خسرہ و روبیلا اور 84 لاکھ کو پولیو کے خلاف ویکسین لگائی جائے گی۔
Under @SindhCMHouse leadership, a new Refusal Conversion Facilitation Cell is active in Karachi.
Government teams are going door-to-door in high-priority areas to listen, engage, and protect every child.
We will leave no child behind in the fight for a polio-free Pakistan. pic.twitter.com/nKHzCkH6ln
— EOC Sindh (@EocSindh) October 28, 2025
ماہرین کے مطابق، پاکستان اس سال دنیا میں خسرہ کے کیسز کے لحاظ سے یمن کے بعد دوسرے نمبر پر ہے، جہاں 12 ہزار سے زائد کیسز اور125 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتِ حال مزید بگڑ سکتی ہے۔
پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے نمائندے ڈاکٹر خالد شفیع نے کہا کہ ویکسین سے بچاؤ ممکنہ بیماریوں سے حفاظت ہر بچے کا بنیادی حق ہے، لیکن افسوس کہ والدین کا عدم تعاون ایک مجرمانہ غفلت ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے 3 اضلاع میں افغانستانی وائرس سے جنیاتی تعلق رکھنے والے پولیو وائرس کی تصدیق
’اگر والدین تعاون کریں تو یہ مہم بچوں کی صحت پر براہِ راست مثبت اثر ڈالے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ خسرہ نہ صرف نمونیا جیسی پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے بلکہ بسا اوقات صحت یابی کے کئی سال بعد دماغی سوجن، مرگی کے دورے یا مستقل اعصابی نقصان جیسے اثرات بھی چھوڑ جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں پولیو ویکسینیشن کے لیے قانون سازی، عالمی ادارہ صحت کیوں مخالفت کر رہا ہے؟
’جب ایک سو فیصد مؤثر ویکسین مفت دستیاب ہے تو خسرہ کا ایک بھی کیس ہمارے لیے شرم کی بات ہے۔‘
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے ڈاکٹر علی مرتضیٰ نے بتایا کہ ان کے اسپتال میں اس وقت 2 بچے خسرہ کے باعث وینٹی لیٹر پر ہیں۔ ’شاید اگر والدین یہ منظر دیکھیں تو ویکسینیشن کی اہمیت سمجھ جائیں۔‘
مزید پڑھیں: عالمی ادارہ صحت کا پاکستان اور افغانستان میں پولیو کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار
ای پی آئی سندھ کے ایڈیشنل پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیر رضا شیخ نے بتایا کہ 1978 میں قائم ہونے والا یہ پروگرام اب 12 بیماریوں کے خلاف ویکسین فراہم کر رہا ہے۔
’ہم نے صوبے کی 1,190 یونین کونسلز میں تربیت یافتہ ٹیمیں تعینات کر رکھی ہیں اور پچھلے 4 مرحلوں میں زیرو ڈوز بچوں کی ویکسینیشن شرح 76 فیصد سے بڑھا کر 81 فیصد تک پہنچا دی ہے۔‘
مزید پڑھیں:
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں خسرہ کی وباؤں میں 60 فیصد کمی اور اموات میں واضح کمی آئی ہے، جو 2024 میں 132 سے کم ہو کر 57 رہ گئی ہیں۔
ڈاکٹر شیخ نے یہ بھی واضح کیا کہ سندھ امیونائزیشن اینڈ ایپیڈمکس کنٹرول ایکٹ 2023 کے سیکشن 9 کے تحت بچوں کی ویکسین سے انکار یا رکاوٹ ڈالنا قابل سزا جرم ہے۔
مزید پڑھیں:
عالمی ادارۂ صحت کے نمائندہ ڈاکٹر رمیش کمار نے بتایا کہ روبیلا پیدائشی نقائص کی سب سے بڑی قابلِ انسداد وجہ ہے، اس لیے اس ویکسین کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
ان کے مطابق، آئندہ مہم کے دوران صوبے کے تمام 30 اضلاع میں 6 ماہ سے 5 سال تک کی عمر کے 82 لاکھ بچوں کو ہدف بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں:
پولیو کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں30 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 9 سندھ سے سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ صرف 70 فیصد والدین اپنے بچوں کو معمول کی ویکسین دلواتے ہیں، جبکہ 30 فیصد بچے اب بھی غیر محفوظ ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیو جان لیوا خسرہ دماغی سوجن مرگی نمونیا وائرس وبائی مراکز ویکسینیشن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیو جان لیوا مرگی نمونیا وائرس وبائی مراکز ویکسینیشن نے بتایا کہ مزید پڑھیں خسرہ کے بچوں کو کے لیے
پڑھیں:
میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
نیویارک شہر کے کم عمر باسکٹ بال شائقین کے لیے ’بیڈ ٹائم‘ سے متعلق ایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ایک خصوصی انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ این بی اے فائنلز کے دوران بچوں کے سونے کے معمول کے اوقات عارضی طور پر منسوخ تصور کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی پسندیدہ ٹیم نیویارک نکس کے تمام میچز بلا رکاوٹ دیکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: نماز عیدالاضحیٰ: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی منفرد انداز میں شرکت
یکم جون کو جاری کیے گئے اس علامتی حکم نامے میں کہا گیا کہ سونے کے اوقات ’نیویارک کے سب سے پیارے بچوں‘ کو نکس کی حوصلہ افزائی کرنے اور میچ کا ایک ایک لمحہ دیکھنے سے نہیں روک سکتے۔
اس موقع پر میئر ممدانی کے ساتھ نکس کے رنگوں میں ملبوس بچوں کا ایک گروپ بھی موجود تھا، جنہوں نے اپنے ہاتھوں کے نشانات لگا کر علامتی طور پر اس حکم نامے پر دستخط کیے۔
Today, I signed an Executive Order temporarily repealing bedtimes in the City of New York so that kids of all ages can watch our team in the NBA Finals.
As Mayor, you’re forced to make many difficult decisions. This was not one of them.
Go Knicks. pic.twitter.com/DqjNtVh17h
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) June 1, 2026
میئر ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میئر کی حیثیت سے آپ کو کئی مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، لیکن یہ ان میں سے ایک نہیں تھا۔
انہوں نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر ’گو نکس‘ کا نعرہ بھی لگایا۔
این بی اے فائنلز میں نیویارک نکس اور سان انتونیو اسپرس کے درمیان تمام میچز رات ساڑھے 8 بجے (مشرقی امریکی وقت) شروع ہوں گے۔
سیریز کے پہلے، تیسرے اور چوتھے میچ تعلیمی دنوں سے قبل رات کو کھیلے جائیں گے، جبکہ اگر ضرورت پڑی تو چھٹا میچ بھی اسکول کی رات میں ہوگا۔
ایسے میں بچوں کے لیے دیر تک جاگ کر میچ دیکھنا ایک اہم مسئلہ بن سکتا تھا۔
مزید پڑھیں: ظہران ممدانی کی نیو یارک میں اسٹیٹ ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
نیویارک نکس کی این بی اے فائنلز میں رسائی شہر بھر میں غیرمعمولی جوش و خروش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
یہ 1999 کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ نکس فائنلز میں پہنچی ہے، آخری بار فائنلز میں انہیں ٹم ڈنکن اور ڈیوڈ رابنسن کی قیادت میں سان انتونیو اسپرس نے شکست دی تھی۔
نکس کی 27 سالہ طویل انتظار کے بعد فائنلز میں واپسی نے باسکٹ بال کے دیوانے نیویارک شہر کو یکجا کر دیا ہے۔
اسپورٹس تجزیہ کاروں کے مطابق نیویارک میں نکس کا فائنلز میں پہنچنا سپر باؤل سے بھی بڑا واقعہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باسکٹ بال سان انتونیو اسپرس ظہران ممدانی میئر نیویارک نیویارک نکس