گاڑیوں کی آن لائن رجسٹریشن سے متعلق اہم خبر
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
عمران یونس: گھربیٹھےگاڑیوں کےپرکشش نمبرآن لائن رجسٹرکرانےکی آخری تاریخ 30اپریل ہے۔
تفصیلات کے مطابق شہری پسندکےنمبرکےحصول کیلئےای آکشن ایپ اورویب پورٹل پررجسٹریشن کرواسکتےہیں،ای آکشن ایپ پرماہ اپریل کیلئےخواہشمندافرادکی رجسٹریشن کاآغازہوچکاہے،پنجاب آئی ٹی بورڈاورمحکمہ ایکسائزپنجاب کےاشتراک سےایپ پررجسٹریشن کاآغازہوا۔
خواہشمندافراد30اپریل تک اپناپسندیدہ نمبرحاصل کرنےکیلئےرجسٹریشن کرواسکتےہیں،ای آکشن ایپ میں موٹر سائیکل اور موٹر کار کے نمبروں کی نیلامی شامل ہے،بولی جیتنے والوں کی تفصیلات بھی ای آکشن ایپ پر دیکھی جا سکیں گی۔
ٹوکن ٹیکس نادہندگان کے لئے بری خبر، سخت فیصلہ کرلیا گیا
چیئرمین پی آئی ٹی بی نے کہا ہے کہ ای آکشن سسٹم کی بدولت شہریوں کوسرکاری دفاترجانےکی ضرورت نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ا کشن ایپ
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔