پاکستان مسلم لیگ کے انٹرا پارٹی الیکشن آئندہ ہفتے منعقد ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ کے انٹرا پارٹی الیکشن آئندہ ہفتے منعقد ہوں گے WhatsAppFacebookTwitter 0 7 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی اور صوبائی سطح پرانٹرا پارٹی انتخابات آئندہ ہفتے منعقد ہوں گے،چوہدری شجاعت حسین نے باقاعدہ منظوری دے دی،طارق حسن پارٹی کے سیکرٹری جنرل نامزد، ڈاکٹر محمد امجد بدستور چیف آرگنائزر کے عہدے پرفائزرہیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی زیر صدارت پارٹی کے اعلی عہدیداران کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں پارٹی کے سینئیر نائب صدر چوہدری سالک حسین، پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری شافع حسین، چیف آرگنائزر ڈاکٹر محمد امجد، مرکزی سیکرٹری اطلاعات غلام مصطفی ملک، سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے رکن حافظ عقیل جلیل،صدر مسلم لیگ سندھ طارق حسن، صدر مسلم لیگ کے پی کے انتخاب خان، صدر مسلم لیگ بلوچستان شکیل روشن، صدر فیڈرل کیپیٹل رضوان صادق خان اور صدر مسلم لیگ گلگت بلتستان دلفراز خان نے شرکت کی۔ اجلاس میں چوہدری شجاعت حسین نے آئندہ ہفتے مسلم لیگ کے انٹرا پارٹی انتخابات کی باقاعدہ منظوری دے دی۔اس موقع پر چوہدری شجاعت حسین نے پاکستان مسلم لیگ سندھ کے صدر طارق حسن خان کو آئندہ پارٹی انتخابات میں بطور سیکرٹری جنرل نامزد کیا۔
اجلاس میں شریک پاکستان مسلم لیگ کے تمام رہنماں نے چوہدری شجاعت حسین کے فیصلے کی تائید کی اور طارق حسن خان کو بطور پارٹی سیکرٹری جنرل اچھا انتخاب قراردیا۔دریں اثنا طارق حسن نے مسلم لیگی رہنماں ڈاکٹر محمد امجد، رضوان صادق خان، مسز فرخ خان اور غلام مصطفی ملک سے پارٹی رہنماں کے ہمراہ الگ الگ ملاقات کی اور حمایت پران کا شکریہ ادا کیا۔ واضح رہے کہ پارٹی صدر چوہدری شجاعت حسین کی منظوری سے پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی، صوبائی اور مقامی سطح پرتمام عہدے تحلیل ہو چکے ہیں اور نئے عہدیداران کا انتخاب باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔
بعدازاں طارق حسن کی پاکستان مسلم لیگ کے سینٹرل سیکرٹریٹ میں آمد پر پارٹی چیف آرگنائزر ڈاکٹر محمد امجد نے فیڈرل کیپیٹل کے رہنماں چوہدری جہانگیر، ڈاکٹر رحیم اعوان، چوہدری عظام، ملک عمران، سید عامر شاہ اور دیگر کے ہمراہ پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد امجد نے امید ظاہر کی کہ طارق حسن خان پارٹی کو منظم اور فعال بنانے میں بھر پور طریقے سے اپناکردارادا کریں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ وہ بطور چیف آرگنائزر طارق حسن خان کی ہر ممکن معاونت کریںگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان مسلم لیگ کے آئندہ ہفتے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس