WE News:
2026-07-24@14:49:33 GMT

عمران خان کا کسی اور جہان میں حکومت بنانے کا اعلان!

اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT

عمران خان کا کسی اور جہان میں حکومت بنانے کا اعلان!

ٹرمپ کے نیوٹرل ہونے کے بعد عمران خان کا کسی اور جہان میں حکومت بنانے کا اعلان سامنے آیا ہے یہ سب کیسے ہوا جانتے ہیں۔

آج کل پاکستان کی سیاست میں جو ڈرامہ چل رہا ہے، وہ کسی بالی ووڈ فلم سے کم نہیں۔ کہانی کا ہیرو عمران خان، جو اڈیالہ جیل سے اپنی رہائی کے خواب دیکھ رہا تھا، اور ولن؟ وہ کون ہے، یہ تو کوئی نہیں جانتا، کیونکہ پاکستان کی سیاست میں ولن کی کرسی پر ہر روز کوئی نہ کوئی نیا چہرہ بیٹھ جاتا ہے۔

لیکن اس کہانی میں ایک دلچسپ موڑ آیا جب پی ٹی آئی نے اپنی ساری امیدیں ڈونلڈ ٹرمپ کے کندھوں پر لاد دیں۔ ادھر عمران خان نے فارن کمیٹی کو تحلیل کرنے کے بعد ایک نئی پالیسی کا اعلان کر دیا۔ اب سے ہم صرف ان عالمی رہنماؤں کے ساتھ چلیں گے جو حقیقی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔

اس فہرست میں جن عظیم عالمی شخصیات کے نام لیے گئے، ان میں ترک ڈراموں کے سلطان سلیمان، ارطغرل غازی، اور بلیک پینتھر فلم کا بادشاہ ٹی والا شامل تھے۔

خاتونِ اول کی حکمتِ عملی کیا تھی؟

سابق خاتونِ اول نے مشورہ دیا،’خان جی، صبر کریں، ابھی اللہ کی طرف سے کوئی اور مدد آئے گی’۔

بس، یہ سننا تھا کہ خان صاحب نے فوراً آنکھیں بند کیں، مراقبے میں چلے گئے اور کچھ دیر بعد اعلان کر دیا:

نئی تحریک شروع کریں گے، تحریکِ متوازی دنیا، ہمیں یہاں لفٹ نہیں ملی تو کسی اور جہان میں حکومت بنا لیں گے!

‎قارئین جیسا کہ آپ کو پتا ہوگا کہ پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں کو پچھلے کچھ مہینوں سے یقین تھا کہ ٹرمپ ان کا ‘ٹرمپ کارڈ’ ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جیسے ہی ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اپنا سرخ ٹائی باندھ کر بیٹھے گا، پہلا کام وہ عمران خان کی رہائی کا کرے گا۔

کچھ نے تو یہ بھی کہا کہ ‘ٹرمپ اور عمران کی دوستی تو پکی ہے، بس اب صدارت کا انتظار ہے’۔ لیکن جب ٹرمپ نے صدارت سنبھالی، تو لگتا ہے انہیں پاکستان کا نمبر ہی بھول گیا۔ شاید ان کے فون میں ‘پاکستان’ کی جگہ ‘پاپا جونز’ سیو ہو گیا ہو، اور وہ سوچ رہے ہوں کہ ‘یہ عمران کون سا پیزا ہے جو رہائی مانگ رہا ہے؟

پی ٹی آئی والوں نے اتنی امیدیں لگا رکھی تھیں کہ لگتا تھا وہ واشنگٹن میں عمران خان کے لیے استقبالیہ تیار کر رہے ہیں، لیکن اب وہ خود ہی اپنے ‘امیدیں ٹرمپولین’ سے گر کر زمین پر آ چکے ہیں۔

‎ہاں سچ پھر بات یاد آئی ہے فارن کمیٹی بنائی ہی اس لیے تھی کہ دنیا بھر میں عمران خان کی رہائی کے لیے لابنگ کی جائے۔ لیکن جب ٹرمپ سے امید پوری نہ ہوئی، تو عمران خان کو غصہ آ گیا۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے جیل سے پیغام بھجوایا، “یہ فارن کمیٹی کیا کر رہی ہے؟

بس بیک گراؤنڈ میں ‘ہم دیکھیں گے’ گا رہے ہیں؟ اور پھر ایک ہی جھٹکے میں فارن کمیٹی کو “فارن” کر دیا گیا۔ اب یہ تو واضح نہیں کہ کمیٹی کے ممبران کو واقعی فارن (یعنی باہر) بھیج دیا گیا یا بس ان کا “فارنہ پن” ختم کر دیا گیا، لیکن پی ٹی آئی کے اندر سے آوازیں آنے لگیں کہ “بھائی، ہم نے تو سمجھا تھا کہ ٹرمپ ہمارا بھائی ہے، لیکن لگتا ہے وہ ہمارا کزن بھی نہیں!”

‎جیل کے اندر عمران خان کا غصہ دیکھنے والوں نے بتایا کہ جب انہیں پتا چلا کہ ٹرمپ نے کوئی ایکشن نہیں لیا، تو انہوں نے چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑا اور بولے، یہ کیا مذاق ہے؟ میں یہاں جیل میں بیٹھا ہوں، اور میری پارٹی والے ٹرمپ کے پیچھے لگے ہیں جیسے وہ کوئی جادو کی چھڑی لہرائے گا۔

پھر غصے میں انہوں نے چائے کا کپ نیچے رکھا (ہاں، توڑا نہیں، کیونکہ جیل میں کپ توڑنے کی سزا الگ سے ملتی ہے) اور کہا، اب بس، فارن کمیٹی ختم۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو لگتا تھا کہ فارن کمیٹی والے بس زوم میٹنگز میں بیٹھ کر ٹرمپ آئے گا، ٹرمپ آئے گا کا راگ الاپ رہے تھے، لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہو رہا تھا۔

اب جب کمیٹی ختم ہو گئی، تو پی ٹی آئی کے کچھ کارکن کہہ رہے ہیں، “شاید اب ہمیں خود ہی جیل کے باہر دھرنا دینا پڑے، ٹرمپ تو اپنے گالف کورس میں مصروف ہے!

‎اب ذرا ٹرمپ کے نقطہ نظر سے دیکھیں۔ وہ تو اپنے “امریکہ فرسٹ” کے نعرے پر واپس آیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسے پہلے اپنے ملک کی دیواریں بلند کرنی ہیں، میکسیکو سے آنے والوں کو روکنا ہے، اور چین سے لڑائی لڑنی ہے۔

اب اس بیچ میں پاکستان کے عمران خان کی رہائی کا مسئلہ کہاں سے فٹ بیٹھتا ہے؟ شاید ٹرمپ سوچ رہا ہو، یہ عمران کون ہے؟ کیا یہ بھی کوئی میکسیکن ہے جو میری سرحد پار کرنا چاہتا ہے؟ یا پھر اسے لگتا ہو کہ پاکستان؟ وہ تو وہی جگہ ہے جہاں سے اچھا بریانی آتا ہے، لیکن رہائی کا کیا چکر ہے؟ بہرحال، ٹرمپ کی ترجیحات میں عمران خان کا نام شاید اس فہرست میں شامل ہی نہ ہو جسے وہ صبح اٹھ کر چیک کرتا ہے۔

‎اب جب ٹرمپ سے امیدیں دم توڑ گئیں اور فارن کمیٹی بھی فارن ہو گئی، تو پی ٹی آئی کے پاس کیا آپشن بچا؟ کچھ کہتے ہیں کہ اب وہ مقامی سطح پر جیل بھرو تحریک شروع کریں گے، لیکن پھر یاد آیا کہ جیل تو پہلے ہی بھری ہوئی ہے۔

کچھ کارکنوں نے تجویز دی کہ چلو، اب کسی اور ملک سے امید لگائیں۔ بھارت والے مودی سے بات کریں۔ لیکن پھر فوراً خیال بدلا کہ نہیں، مودی تو خود عمران کا پڑوسی ہے، وہ کیوں مدد کرے گا

آخر میں فیصلہ یہ ہوا کہ اب بس اپنے دیسی طریقوں سے لڑائی لڑی جائے گی۔ یعنی دھرنے، ٹویٹس اور پریس کانفرنسز کا وہی پرانا فارمولا۔ لیکن دل میں ایک بات سب کو کھٹک رہی ہے کہ ٹرمپ نے تو ہمارا دل ہی توڑ دیا۔

‎تو یہ تھی عمران خان، پی ٹی آئی، اور ٹرمپ کی امیدوں کی کہانی۔ اس سے ایک سبق یہ ملا کہ سیاست میں فارن امداد پر زیادہ بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر جب وہ امداد کسی سرخ بالوں والے صدر سے مانگی جائے جو خود اپنے مسائل میں الجھا ہوا ہو۔

اب پی ٹی آئی والوں کو شاید یہ سمجھ آ گیا ہو کہ رہائی کا راستہ واشنگٹن سے نہیں، بلکہ اڈیالہ جیل کے گیٹ سے نکلتا ہے۔ اور ہاں، اگر اگلی بار کوئی کمیٹی بنائیں، تو اس کا نام فارن کمیٹی نہ رکھیں، کیونکہ وہ واقعی فارن ہو جاتی ہے۔

اب بس انتظار ہے کہ اس کہانی کا اگلا موڑ کیا ہوگا؟ لگتا ہے کیا اگلا موڑ یہ ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی اب حکومت کسی اور یا اگلے جہان میں بنانے کا ارادہ رکھتی ہے کمینٹ میں جواب ضرور دیجیے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چوہدری خالد عمر

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عمران خان کا پی ٹی آئی کے فارن کمیٹی رہائی کا جہان میں ٹرمپ کے کسی اور کہ ٹرمپ تھا کہ کر دیا

پڑھیں:

دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا

18 جولائی کو وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد صرف ایک ہفتے میں پٹرول کی قیمت میں 15 اور ڈیزل کی قیمت میں 24 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دو ہفتے کے دوران پاکستان میں پٹرول 20 روپے اور ڈیزل 55 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ 18 جولائی کو وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد صرف ایک ہفتے میں پٹرول کی قیمت میں 15 اور ڈیزل کی قیمت میں 24 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا۔ پیٹرولیم ڈویژن نے 24 جولائی کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے کا اضافہ کیا گیا، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ حکومت نے گزشتہ روز بھی ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف