امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بھارتی ہم منصب سے رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارتی ہم منصب جے شنکر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے امریکا بھارت اسٹریٹیجک شراکت داری پر بات کی اور انڈوپیسیفک خطے میں تعاون بڑھانے سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکا کی جانب سے بھارت پر عائد جوابی ٹیرف پر بھی بات چیت کی گئی اور یہ بھی کہ شفاف اور متوازن تجارتی تعلقات کے قیام کے لیے کیسے پیشرفت کی جائے۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے فون پر بات چیت ہوئی تھی۔
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ مارکو روبیو نے داعش دہشتگرد شریف اللّٰہ کی گرفتاری اور حوالگی پر شکریہ ادا کیا، دونوں رہنماؤں نے انسداد دہشتگردی تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مارکو روبیو
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔