ہرطرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے دعا کریں کہ روشنی ہوجائے، شیخ رشید
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ہرطرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے دعا کریں کہ روشنی ہوجائے، 4 ماہ میں 36 ہزار سے زائد کیسز بنائے گئے، مقدمات کو پایہ تکمیل تک پہنچانا مشکل کام ہے۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ 4 ماہ کے دوران 36 ہزار سے زائد کیسز بنائے گئے، 36 ہزار مقدمات کو 4 ماہ میں پایا تکمیل تک پہنچانا کافی مشکل کام ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے دعا کریں کہ روشنی ہو جائے، پاکستان ترقی کرے اور غریب بہتر ہو جائے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کو سانحۂ 9 مئی 2023 سے متعلق کیسز کا روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کر کے 4 ماہ کے اندر اندر فیصلے جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے ہر 15 دن کی پیش رفت رپورٹ متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو پیش کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔